fbpx
پاکستان سیاست

وفاقی حکومت کی نالائقی اور ناکامی کی وجہ سے متوسط طبقے اور غریب لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں، سعید غنی

 وزیر اعظم عمران خان اپنی غیر تسلی بخش کارکردگی اور سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کی زیادتی کی وجہ سے وزیر اعلیٰ سندھ سے آنکھ نہیں ملا سکتے اس لیے وہ مراد علی شاہ سے نہیں ملے۔

کراچی پریس کلب کے پروگرام ‘میٹ دی پریس’ سے خطاب اور کلب کی گورننگ باڈی کے اراکین سے ملاقات کے دوران سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نالائقی اور ناکامی کی وجہ سے متوسط طبقے اور غریب لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں، جو میڈیا کے ساتھ ہو رہا ہے محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے، میڈیا پر پابندیاں لگادی گئی ہیں، جو حکومت چاہتی ہے وہ چلتا ہے جو نہیں چاہتی نہیں چلتا، جبکہ ماضی میں بھی یہ چیزیں ناکام ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی پچھلی تاریخ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے، کراچی میں بے گناہ لوگوں کو مارا جاتا تھا، بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ اور دیگر واقعات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، کراچی کی بربادی میں جن کا کردار ہے وہ آج بھی وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں، کراچی کے کچرے پر کوئی کچھ نہیں بولتا تھا، ہم نے کراچی کے جن بڑے بڑے اداروں پر کام کیا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں 300 ارب روپے سے زیادہ خرچ کریں گے اور مسائل حل کریں گے تاکہ سندھ کا موازنہ کیا جائے تو پورے ملک سے کیا جائے صرف سندھ کی بات نہ کی جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ انسداد ریبیز ویکسین بناتا ہے لیکن اس کی پروڈکشن ہماری ضروریات سے کم ہے، ویکسین موجود ہے لیکن ایس او پی کے تحت جتنی مقدار میں ہونا چاہیے اتنی نہیں ہے جبکہ کتوں کے کاٹنے سے جو اموات ہوئیں وہ وقت پر ویکسین نہ لگانے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم کے حالیہ دورہ کراچی اور وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات نہ ہونے سے متعلق سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعظم کو لینے نہ جانے کی بات درست نہیں ہے، وزیر اعظم تو آئے ہی بہت کم ہیں اور جب وہ آتے ہیں ان کے شیڈول سے صوبائی حکومت کو تو آگاہ کیا جاتا ہے لیکن اتنی زحمت نہیں کی جاتی کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی آگاہ کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریاتی اختلافات ضرور ہیں لیکن وہ وزیر اعظم ہیں، آئین نے بہت سے میکانزم بتائے ہیں جس کے ذریعے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کی بات ہوجاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے درمیان کسی فورم کے ذریعے ملاقات نہیں ہو پاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم کراچی آتے ہیں تو توقع ہوتی ہے کہ کراچی کے مسائل کی وجہ سے ہی وہ آئے ہیں، تاہم اگر وہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات نہیں کرتے تو اس میں سندھ حکومت ذمہ دار نہیں، اپنی غیر تسلی بخش کارکردگی اور سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کی زیادتی کی وجہ سے وہ وزیر اعلیٰ سندھ سے آنکھ نہیں ملا سکتے، اس وجہ سے سلیکٹڈ وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سندھ سے نہیں ملے۔

لاڑکانہ کے حالیہ ضمنی انتخاب کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں پی ایس 11 پر پیپلز پارٹی کا مقابلہ ہمیشہ سخت رہا ہے، اس مرتبہ پیپلز پارٹی کے ووٹ میں پچھلے تین چار سال کے ووٹوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے، پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ نہ جیتے جبکہ یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملی سراسر غلط ہے۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google