fbpx
پاکستان سیاست

اپوزیشن اے پی سی: ‘حکومت مخالف تحریک کیلئے رہبر کمیٹی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرے’

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ متحد طور پر اسلام آباد آئیں گے اور حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکیں گے اور اس سلسلے میں رہبر کمیٹی کو کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی  کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی غیرموجودگی میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی، جس کی صدارت مولانا فضل الرحمٰن نے کی۔

اے پی سی کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تمام جماعتوں کے سربراہاں اور وفود پر مشتمل اے پی سی کا انعقاد ہوا، جس میں ملکی کی مجموعی صورتحال اور حکومتی کارکردگی زیر بحث رہی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر ہم سب اس پر متفق ہیں کہ حکومتی نااہلیوں کے باعث ملک بحران میں جکڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر ملک کمزور ترین دور سے گزررہا ہے اور یہی معاشی کمزوری کے سبب سوویت یونین اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑسکی۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، عوام مہنگائی سے تنگ ہیں جبکہ نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں، اس کے علاوہ تاجر برادری وکلا اور ڈاکٹرز بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیر کی صورتحال پر موجودہ حکمرانوں کو کشمیر پر سودے بازی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر فروش شور مچا رہے ہیں کہ ہم کشمیر کے ساتھ ہیں، تاہم اپوزیشن کشمیریوں کو یقین دلاتی ہے قوم اور اپوزیشن آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس وقت مسئلہ کشمیر کی صورتحال یکسر تبدیل کردی گئی ہے، حکومت نے کشمیریوں کے پیٹ میں چھرا گھونپا ہے، کل تک ہم سوچ رہے تھے کہ سری نگر کیسے حاصل کرنا ہے؟ لیکن آج سوچ رہے ہیں مظفرآباد کو کیسے بچانا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری بھی پاکستانی قوم کی طرح زخمی ہیں، یہ اے پی سی کشمیری بہن، بھائیوں کے لیے پیغام ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ نریندر مودی کے منشور میں یہ بات شامل تھی مگر عمران خان کہتے تھے کہ مودی جیتے گے تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہنے پر جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کو نظر آرہا ہے، ہم عالمی سازش کا حصہ ہیں جبکہ ٹرمپ کے کہنے پر حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ ہم نے رہبر کمیٹی کو کہا ہے کہ وہ اپنا چارٹرآف ڈیمانڈ تیار کرے، 26 اگست کو کمیٹی کا اجلاس ہوگا تاکہ مشترکہ حکمت عملی بنائی جاسکے جبکہ 29 اگست کو دوبارہ اے پی سی ہوگی۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہوئی ہیں کہ ہم اسلام آباد آئیں گے اور قوم کو ان سے چھٹکارا دلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے آج سے تحریک کی صورت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے، جابر اور ظالم حکمرانوں کے خاتمے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع ہوتی رہتے ہی، پہلے بھی ہوئی ہے اور آج بھی ہوئی، یہ کوئی نیا کام نہیں۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی کے دوران مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کے معاملہ پر حکومتی کردار پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے بجائے اس سے فرار اختیار کررہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے دونوں جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے وضاحت مانگی اور کہا کہ اگر کوئی ہماری حمایت نہیں کرسکتا تو واضح کردے، اسلام آباد لاک ڈاون کرنے کی ہم خود صلاحیت رکھتے ہیں۔

اے پی سی کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر قوم سے مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ نہیں دی جائے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ وادی میں بھارتی افواج کے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔

اے پی سی میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان، مقبوضہ کشمیر کی عالمی سطح پر بھرپور وکالت کرے۔

اجلاس کے دوران کہا گیا کہ ہمیں بھارت کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے روکنے کے لیے سفارتی محاذ پر پہلے سے تیار رہنا چاہیے تھا۔

اے پی سی میں اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجیتی کرتی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ وادی میں کرفیو ختم کروانے کا مطالبہ کردیا۔

حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں غیر سنجیدگی دکھائی، جبکہ مطالبہ کیا کہ حکومت کریڈٹ لینے کے بجائے کشمیر پر عملی اقدامات کرے۔

اے پی سی میں یہ بھی کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان، بھارت اور کشمیری فریق ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کے معاملے پر تمام جماعتیں فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاک فوج بھارت کی کسی مہم جوئی کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اجلاس میں رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی اور جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر عبدالغفور حیدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر اور نئیر بخاری پر مشتمل پاکستان پیپلزپارٹی کا وفد بھی اجلاس میں شریک ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین اور امیر حیدرخان ہوتی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شئیر پاو اور شفیق پسروری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں خواجہ محمد آصف، احسن اقبال اور سردار ایاز صادق اپنی پارٹی کے صدر شہباز شریک کی غیر موجودگی میں اجلاس میں شریک ہوئے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے تمام مہمانوں کو دروازے پر آکر خوش آمدید کہا۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google