fbpx
پاکستان تازہ خبر

عالمی عدالت کا انصاف، کلبھوشن کی سزا برقرار

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔

کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبد القوی احمد یوسف نے سنایا۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور حوالگی کی بھارتی استدعا بھی مسترد کردی اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا۔

جج عبدالقوی احمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن تک قونصلر رسائی مانگی تھی جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ کیس میں ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہیں دی جاسکتی۔

تاہم پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں اور ویانا کنونشن، جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا جبکہ پاکستان نے کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا، لہٰذا پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے تاہم وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا، جبکہ پاکستان کی دائرہ اختیار سماعت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

عالمی عدالت نے پاکستان سے کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کیا۔

کیس میں پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق حسین جیلانی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسوں پر نہیں ہوتا، لہٰذا بھارت کی قونصلر رسائی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جانی چاہیے۔’

اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں پاکستانی ٹیم فیصلہ سننے نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں موجود تھے۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ساؤتھ ایشیئن ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (سارک) اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی پاکستانی وفد کے ساتھ موجود تھے۔

یاد رہے کہ 4 جولائی کو دفتر خارجہ کے ذرائع نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے آئی سی جے کی جانب سے کیس کا فیصلہ 17 جولائی کو آنے کی تصدیق کی تھی۔

بھارت نے کلبھوشن یادو کی بریت کیلئے عالمی عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا تھا، تاہم کیس کی سماعت کے دوران بھارتی وکیل اس سوال کاجواب دینے میں ناکام رہے کہ کلبھوشن کے پاس 2 پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے۔

قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کا قوی امکان ہے جبکہ عدالت بھارت کو زیادہ سے زیادہ کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا فیصلہ سنا سکتی ہے۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google

WordPress Video Lightbox Plugin