fbpx
پاکستان معیشت

معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فی صد بڑھانا وقت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن چیف برائے پاکستان ارنسٹو رمیزار رینگو نے اسلام آباد کو قرض کی پہلی قسط چند گھنٹوں میں جاری ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فیصد تک بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ارنسٹو رمیزو رینگو نے کہا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرض کی پہلی قسط چند گھنٹوں میں مل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات پر توجہ دی ہے اور قرض پروگرام کا مقصد معیشت اور اداروں کو مستحکم کرنا ہے۔

پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے کو مثبت قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ حقیقت کے قریب تر ہے۔

آئی ایم ایف کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس آمدن بڑھانا اور معاشی استحکام ضروری ہے اور اگر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھے تو خسارہ کم ہوسکتا ہے اور معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فی صد بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے استحکام کے کئی راستے کھولے گا جبکہ یورو بانڈ اور سکوک کے اجرا کا فیصلہ پاکستان کی حکومت کو کرنا ہے۔

ارنسٹو رمیزو رینگو نے کہا کہ نجکاری سے نان ٹیکس آمدن بڑھے گی اور جب ٹیکس آمدن بڑھے گی تو معاشی ترقی بھی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 ہزار 5 سو ارب کا ٹیکس جمع کرنے کے لیے صوبوں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کی وفاقی حکومت ٹیکس آمدن کا 57 فیصد صوبوں کو فراہم کرتی ہے، ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے مرکز و صوبوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے مشن چیف نے کہا کہ معاشی کارکردگی میں شفافیت کے لیے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔

قبل ازیں ایک سنیئر عہدیدار نےمیڈیا کو آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان کو مجموعی قرض سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تین برس میں آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر ملیں گے لیکن پاکستان کو 4 ارب 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم 23-2022 تک واپس بھی کرنا ہوگی۔

خیال رہے کہ 3 جولائی کو ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔

آئی ایم ایف کے ترجمان گیری رائس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ‘آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے معاشی منصوبے میں تعاون کے لیے تین برس کے دوران 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مقصد ملک کی معیشت میں مستقل بڑھوتری اور معیار زندگی کو بہتر کرنا ہے’۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے معاشی اصلاحاتی منصوبے میں تعاون کے لیے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری دے دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا منصوبہ معاشی عدم توازن کو کم کرکے بڑھوتری کا ہے، کمزور طبقے کے مکمل تحفظ کے لیے سماجی سطح پر اخراجات کو مستحکم کیا گیا ہے’۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘ایک ایسا اصلاحاتی نظام جس میں حکومت کی مالی حالت کو بہتر بنانے سمیت ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے قرضوں میں کمی لانا ہمارے پروگرام میں شامل ہے’۔

آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘یہ قرض ملک اور حکومت کے فائدے میں ہے تاکہ ملک کی مالی صورت حال کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشی انتظام کو یقینی بنانا ہے’۔

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google