fbpx
پاکستان کرکٹ

سرفراز کپتانی کے قابل نہیں ہیں : معین خان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ اگر ٹیم کے موجودہ کپتان سرفراز احمد کو ٹیم میں ہونے والی گروپ بندی کا علم تھا لیکن وہ پھر بھی اسے ختم نہ کرواسکے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کپتانی کے اہل نہیں ہیں۔

کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے ٹیم میں گروپ بندی، قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں کارکردگی اور ٹیم کی ایونٹ میں واپسی کی بات کی۔

واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارت کے خلاف شکست کے بعد سرفراز احمد نے ڈریسنگ روم میں بغیر کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوا تو ان کے ساتھ مزید لوگ بھی گھر جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر سوال کے جواب میں معین خان نے بتایا کہ انہوں نے سرفراز احمد کے اس بیان کو نہیں سنا، تاہم اگر ایسے کچھ الفاظ سرفراز احمد نے کہے ہیں تو وہ غلط ہیں کیونکہ ابھی ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا۔

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ ٹیم میں اگر گروپ بندی ہے اور سرفراز اس پر قابو پانے میں ناکام ہوگئے ہیں تو وہ پھر قیادت کے اہل نہیں ہیں۔

قومی ٹیم کی صلاحیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم جب مشکل میں آتی ہے تو اس کے بعد وہ مزید ابھر کر سامنے آتی ہے، ابھی ٹیم کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے تمام میچز جیتنے ہوں گے، تاہم جب ٹیم دلیری کے ساتھ کھیلتی ہے تو غیبی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے۔

کپتانی اور چیف سلیکٹر کو ہٹانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ کس کو رکھنا چاہیے اور کس کو نکال دینا چاہیے، کیونکہ ابھی ورلڈکپ جاری ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈکپ میں اب تک 5 میچز کھیلے ہیں جس میں صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بارش کی نظر ہوا۔

قومی ٹیم صرف 3 پوائنٹس کے ساتھ 10 ٹیموں میں 9ویں نمبر پر ہے جو صرف افغانستان سے آگے ہے جس نے ایونٹ میں کوئی کامیابی ہی حاصل نہیں کی۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google