fbpx
پاکستان سیاست

ضمانت ختم، ایک اور بلبل نیب کی قید میں چلی گئی

حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی ضمانت آج 11 جون کو ختم ہوگئی تھی، جس میں توسیع کے لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ضمانت میں توسیع کا معاملہ احتساب عدالت دیکھے گی جس پر لیگی رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ انکے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔

نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا زریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں موجود ہیں، جس پر ان کے وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ جی حمزہ شہباز کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے صرف گرفتاری کی وجوہات اور انکوائری اور تفتیش سے متعلق دستاویزات دیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کیے ہیں جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے بالکل قانون کے مطابق کریں گے۔

پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز نے متعدد بینک اکاونٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کیں اور ان کے خلاف درخواست بھی موصول ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ حمزہ شہباز سے آف شور کمپنیوں کے بارے میں پوچھا گیا جس کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو منظور کیا جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے۔

جس پر لیگی رہنما کے وکیل نے درخواست واپس لے لی اور جس کی بنیا پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔

ضمانتیں خارج ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز نے اپنے وکلا سے مشاورت کی اور پھر نیب کو گرفتاری دے دی۔

نیب کی ٹیم عدالت میں موجود تھی جس نے کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

واضح رہے کہ حمزہ شہباز کے خلاف نیب کی جانب سے رمضان شوگر ملز، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور صاف پانی کیس میں ریفرنس دائر کیے گئے ہیں۔

رمضان شوگر ملز کے لیے حمزہ شہباز نے ایک نالہ تعمیر کروایا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin