fbpx
پاکستان سیاست

حکومت مارتی بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی، بلاول بھٹو

اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس نے گیارہ سال اپنے باپ کو جیل میں دیکھا

اسلام آباد میں آصف زرداری کی گرفتاری پرردعمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں یہ دوسرا دن ہے جب مجھے بولنے کیلئے وقت نہیں دیا گیا ، پچھلے سیشن میں بھی سپیکر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن نہیں بولنے دیا گیا ، آج بھی وعدہ کیا گیا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن تحریک انصاف کے تین وزراءنے تقریر نے تقریر کی اور ان کو بولنے کا موقع ملا لیکن مجھے نیشنل اسمبلی کے فلور پر بولنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی رویے کی مذمت کرتا ہوں، ڈپٹی سپیکر کا رویہ قابل مذمت ہے ، ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہوں، ہم دیکھا ہے کہ جب کو اشارا کیا جاتاہے تو سپیکر اٹھ جاتا ہے اوربیٹھ جاتا ہے ، جب سابق وزیر داخلہ کوئی چٹ پیش کرتاہے تو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سپیکر سے کہا تھا کہ دو تین ،خواتین ارکان اسمبلی جو سندھ سے تعلق رکھتی ہیں ، ان پر اسلام آباد پولیس نے تشدد کیا ، میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صرف پولیس کا قصور ہوگا لیکن اس میں ساری کی ساری حکومت شامل ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات پاکستان کے عوام کے آگے رکھنا چاہتا ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ جو دورکن قومی اسمبلی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں جس پر میں نے سپیکر کوخط لکھا تھا کہ یہ ارکان ہمارے ہاﺅس سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے بارے میں ایوان کوبتایا جائے لیکن بدقسمتی سے آج تک ان دونوں ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ، جتنے بھی سنگین الزامات ہوں لیکن پاکستان کے ہر شہری کاحق ہے کہ اس کا شفاف ٹرائل ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو رویہ موجودہ اسمبلی میں اپنایا جارہاہے ، یہ رویہ ہم نے مجلس شوریٰ ضیاءالحق اور مشرف کی اسمبلی میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج نیا پاکستان کی قومی اسمبلی میں دیکھا جارہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن رہنماﺅں کو گرفتار کیا جارہاہے ، حکومت کا یہ رویہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، ہمارے سندھ اسمبلی کے سپیکر کو اسلام آباد سے گرفتار کیاگیا ، اس وقت بھی چادر اورچاردیواری کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے ، اگر کوئی ریفرنس آئین کے تحت بھیجنا ہے تو ہر پاکستانی کو ایک شفاف ٹرائل کاحق ہے کہ اس کو پتہ چلے کے اس پر کیا الزامات ہیں؟ آزاد اور جمہوری ملک میں عدلیہ پر حملے نہیں ہوتے ،ہمارا نیشنل اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور بجٹ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے لیکن یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا ، سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتی ہے ، حکومت آزادی اظہار رائے پر پابندی لگا رہی ہے ، اس نئے پاکستان ، مشرف کے پاکستان اور ضیاءکے پاکستان میں کیا فرق ہے ؟ پہلے بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی ، آج بھی نہیں ہے ، پہلے بھی عدالتیں آزادی سے فیصلے نہیں دے سکتی تھیں اور آج بھی یہ کچھ کیا جارہاہے ۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google