fbpx
پاکستان سیاست

زرداری کی گرفتاری، مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں، مظاہرے

  صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد جیالوں نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا اور حکومت اور نیب کیخلاف مخالف نعرے لگائے گئے۔

گوجرانوالہ میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا، جیالوں نے مینر چوک سے ڈی سی آفس تک ریلی نکالی، احتجاج میں شریک کارکنوں نے ہاتھوں میں کتبے اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جیالوں نے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اس دوران جیالوں نے ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگائے۔

حیدر آباد میں سابق صدر آصیف علی زرداری اور فریال تالپورکی ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد اور زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ حیدرآباد پی پی یوتھ ونگ کے جیالے ڈسڑکٹ کونسل کے سامنے جمع ہو گیے، پارٹی پرچم اٹھائے جیالوں کی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی، اس دوران جیالوں کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب قدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

لاہور میں بھی پیپلز پارٹی کے جیالوں نے احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ لاہور کے 9 مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ گلاب دیوی میٹرو سٹیشن پر فیصل میر کی قیادت میں مظاہرہ ہوا۔ جیالوں نے ٹائر جلا کر فیروز پور روڈ پر ٹریفک بند کر دی، ٹریفک بند ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ جس کے باعث میٹرو بس کی سروس بھی بند کر دی گئی۔ اس دوران جیالوں نے حکومت اور نیب کے خلاف نعرے لگائے۔

اُدھر حیران کن طور پر آصف علی زرداری کے آبائی شہر نواب شاہ میں احتجاج نہ ہو سکا، شہر سے ایم این اے منتخب ہونے والے آصف علی زرداری کی گرفتاری پر جیالوں کی پراسرار خاموشی نے سب کو حیران کر دیا، شہر کی تمام کاروباری و تجارتی مرکز میں کاروبار کھلے رہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مختلف مقامات پر پولیس تعینات کر دی گئی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاونکیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں 

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google