fbpx
پاکستان رپورٹرز نیوز

جلالپورپیروالا میں مقامی مزدور کے گھر لرزہ خیز واردات 5افراد قتل 4 زخمی پورے علاقے میں کہرام مچ گیا پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی نعشیں اور زخمیوں کو 1122 نے ریسکیو کرکے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کردیں

جمیل ملک، میڈیا رپورٹر پاک ایشیاء

جلالپور پیروالا میں ایک ہفتہ کے اندر ایک اور لرزہ خیز واردات 5افراد جان کی بازی ہار گئے

جلالپورپیروالا شہری آبادی کے محلہ اسلام پورہ کالونی میں نامعلوم نوجوان نے مقامی مزدور رفیق عرف لڈو کے گھر داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے گھر کا سربراہ رفیق عرف لڈو اس کی بیوی، بیٹی اور بیٹا ہلاک ہوگئے جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے بعد ازاں حملہ آور نوجوان نے خود کو بھی گولی مار کر اڑا دیا اس افسوس ناک سانحے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ سٹی رانا صابر حسین پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جبکہ 1122 نے ریسکیو کرکے زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کردیا مقتول کے سامان سے تلاشی پر حملہ آور کے کوائف سے معلوم ہوا کہ وہ خوشاب کا رہائشی ہے اور اس کی جیب سے آرمی کاسروس کارڈ بھی برآمد ہوا ہے پولیس نے مزید تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں دوسری طرف تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر ورثا شدید برہم انہوں لاشیں چوک فوارہ پر رکھ کر روڈ بلاک کردیا ہے اور احتجاج کیا بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر احمد رضا سرا نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور زخمیوں اور نعشوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کرایا اس افسوناک واقعہ پر انجمن تاجران کی طرف سے ہڑتال کی کال کے بعد تمام مارکیٹیں بھی بند کرادی گئیں لوگوں نے ایم ایس سمیت تمام ہسپتال کے عملے کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے جس پر سی او ہیلتھ ملتان حالات کا جائزہ لینے کے لیے جلالپور پہنچ گئے پولیس کی ہائی کمان کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا پوسٹمارٹم کے بعد چار میتں جب گھر پہنچیں تو کہرام مچ گیا حملہ آور نوجوان کی لاش کو بھی جلانے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے نعش کو تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردیا جلالپورپیروالا میں ایک ہفتے میں یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google