fbpx
دنیا سیاست

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کنزرویٹو پارٹی کی صدارت سے مستعفی

برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزا مے جمعے کو ملک کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہوگئی ہیں تاہم وہ بطور وزیراعظم اس وقت تک کام کرتی رہیں گی جب تک جماعت کے نئے قائد کا انتخاب نہیں کر لیا جاتا۔

انھوں نے اپنا استعفیٰ ’1922 کمیٹی فار بیک بینچ کنزرویٹو ایم پیز‘ کے جوائنٹ چیئرمین چارلس واکر اور ڈیم شیرل گیلن کو دیا۔

انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان دو ہفتے قبل بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سات جون کو مستعفی ہو جائیں گی۔

ٹریزا مے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے 11 ارکان پارلیمان میں پارٹی لیڈر بننے اور اس کے نتیجے میں ملک کا نیا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں ہیں۔ اس انتخاب کے عمل کے دوران ٹریزا مے ہی قائم مقام پارٹی قائد رہیں گی۔

ٹریزا مے کے دور کے دوران برطانیہ میں بریگزٹ کا موضوع حاوی رہا، پارٹی اس موضوع پر منقسم رہی اور وہ بریگزٹ کا عمل مکمل نہ کروا سکیں۔

برطانیہ کو 29 مارچ کو یورپی یونین سے الگ ہونا تھا لیکن اس ڈیڈ لائن کو پہلے 12 اپریل اور اب 31 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔

ٹریزا مے نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک نیا وزیر اعظم بریگزٹ کو انجام دے۔


ٹریزا مے کے پاس کون سے اختیارات رہیںگے؟

آئینی طور پر ٹریزا مے کے پاس تمام موجودہ اختیارات رہیں گے لیکن پارلیمان کے ارکان انھیں نئے وزیر اعظم کو عہدہ سونپنے تک کوئی نئی پالیسیاں متعارف نہیں کرانے دیں گے۔

پالیسیوں کے علاوہ ٹریزا مے بیرون ملک برطانیہ کی نمائندگی کرتی رہیں گی۔ وہ عوامی عہدوں پر بھرتیاں اور اپنے وزرا کی ٹیم میں تبدیلیاں بھی کر سکتی ہیں۔


ٹریزا مے کی جگہ کون آئے گا؟

ٹریزا مے کی جانب سے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کے بعد پیر 10 جون کو امیدوار باقاعدہ طور پر اس عہدے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے۔

پارٹی لیڈر کے عہدے کا امیدوار بننے کے لیے آٹھ ارکانِ پارلیمان کی حمایت درکار ہے۔ ارکانِ پارلیمان پھر 13، 18، 19 اور 20 جون کو خفیہ طور پر ووٹ ڈالیں گے۔

دو حتمی امیدواروں میں سے انتخاب کے لیے کنزویٹو پارٹی کے ممبران کی پہلے سے بڑی تعداد 22 جون کو ووٹ ڈالے گی اور اس کے چار ہفتے بعد نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔

پارٹی لیڈر بننے والا فرد ہی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے گا۔


بریگزٹ سے متعلق اہم واقعات کی ٹائم لائن

جون 2016: ریفرینڈم میں برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

نومبر 2018: برطانیہ کا اخراج کے معاہدے اور یورپی یونین سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں لائحہ عمل پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔

دسمبر 2018: ٹریزا مے نے یورپی اتحاد کو مزید یقین دہانی کروانے کے لیے پہلے ‘میننگ فُل ووٹ’ ملتوی کر دیا۔

سنہ 2019:

15 جنوری: دارالعوام نے بریگزٹ معاہدے کو 239 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔

13 مارچ: پارلیمانی ارکان نے دوسری مرتبہ 149 ووٹوں سے بریگزٹ معاہدے کو مسترد کر دیا۔

22 مارچ: یورپی اتحاد نے بریگزٹ میں 29 مارچ سے آگے تک تاخیر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن برطانیہ کی طرف سے ایک ہفتے تک معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں 12 اپریل تک تاخیر کی جائے گی۔

29 مارچ: پارلیمانی ارکان نے 58 ووٹوں سے اخراج کا معاہدہ مسترد کر دیا۔

2 اپریل: برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ یورپی اتحاد سے مزید ‘مختصر توسیع’ حاصل کریں گی۔

11 اپریل: یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک کے بقول برطانیہ اور یورپی یونین نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ کی ‘لچکدار توسیع’ پر اتفاق کر لیا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاونکیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

زرناش اریحا

زرناش اریحا، آسٹریا کے شہر ویانا میں رہائش پذیر ہیں اور دنیا بھر کی مشہور ویب سائٹس سے خبریں تلاش کر کے پاک ایشیاء کے قارئین، سامعین و ناظرین کے لیے انہیں پاک ایشیاء ویب سائٹ کی زینت بناتیں ہیں۔
زرناش آسٹریا میں بطور کنٹری ہیڈ بھی اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دئے رہیں ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin