fbpx
پاکستان سیاست

نواز شریف کی رخصتی،لیگی قافلہ نیب دیس کی طرف رواں دواں

 سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل واپسی کے موقع پر لیگی کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی قافلے کے ہمراہ، کارکنوں کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے، ملحقہ راستوں پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف قافلے کے ہمراہ جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل کیلئے روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی ان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ حمزہ شہباز گاڑی ڈرائیو کر رہے ہیں۔

میاں نواز شریف اپنی رہائشگاہ سے جیل منتقل ہونے کیلئے نکلے تو اس موقع پر لیگی کارکنوں نے ان کے حق میں نعرہ بازی کی اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگائے۔ متوالوں نے ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔ نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔

سابق وزیراعظم کا قافلہ کوٹ لکھپت جیل کی جانب رواں دواں ہے۔ پولیس کی جانب سے فیروز پور روڈ اور ملحقہ راستوں پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

کچا جیل روڈ پر ٹریفک یکطرفہ چل رہی ہے جبکہ کوٹ لکھپت جیل کی جانب جانے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا۔ کارکنوں کی آمد کے پیش نظر فیروز پور روڈ پر بھی ٹریفک سست روی کا شکار ہے۔

نواز شریف نے جیل روانگی سے پہلے جاتی امرا میں اپنی والدہ سے الوداعی ملاقات کی جبکہ والد میاں محمد شریف، اہلیہ کلثوم نواز اور بھائی عباس شریف کی قبر پر فاتحہ خوانی کی۔

میاں نواز شریف سے اظہار یکجہتی کیلئے شہر میں مختلف مقامات پر خیر مقدمی بینرز لگائے گئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی ریلی جاتی امرا، اڈا پلاٹ اور رنگ روڈ سے ہوتی کوٹ لکھپت جیل پہنچے گی۔

نواز شریف کی جیل منتقلی کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور ضلعی انتظامیہ میں بھی ٹھنی رہی۔ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے افطاری کے بعد جیل منتقلی کی نواز شریف کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس حوالے سے ڈی سی لاہور صالحہ سعید نے لیگی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا۔

https://twitter.com/pmln_org/status/1125785991661412353

ضلعی حکومت کا موقف تھا کہ نواز شریف کو شام چھ بجے تک جیل منتقل کیا جائے۔ جیل حکام کے مطابق قیدیوں کو وصول کرنے کا وقت 4 سے شام 6 بجے تک ہے، اس کے بعد کوئی بھی قیدی وصول نہیں کیا جاتا۔

لاہور پولیس نے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کو سیکیورٹی دینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اہلکار رمضان کی سیکیورٹی کے حوالے سے مساجد اور اقلیتوں کے مذہبی مراکز پر تعینات ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ ریلی کی اجازت دینے سے پہلے ہی انکار کر چکی ہے۔ اس لیے جیل مینیول کے مطابق غروب آفتاب سے قبل نواز شریف جیل پہنچیں۔

https://twitter.com/pmln_org/status/1125777580693520385

اس پر ردعمل دیتے ہوئے ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف کو بغیر کسی قصور کے جیل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ افسوس اور دکھ کے موقع پر کارکنوں کی جانب سے بڑا پریشر ہے۔ انھیں سیکیورٹی دی جائے، اگر کوئی نقصان ہوا تو ہم ذمہ دار ہونگے۔

رانا ثنا اللہ نے دھمکی دی کہ اگر کسی نے ہمارے کارکنوں کو روکا یا گرفتار کیا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی جی اور ہوم سیکرٹری جعلی حکمرانوں کے آلہ کار نہ بنیں۔ نواز شریف کے روٹ کو سیکیورٹی دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔ تمام راستوں کوکھلا رکھا جائے، کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آج رات بارہ بجے وقت ختم ہوگا۔ نواز شریف قانون کے مطابق 11 بج کر 59 منٹ تک اپنے آپ کو حوالے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکن جیل کے روٹ پر اظہار یکجہتی کرنا چاہتے ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے عجیب رویہ اپنایا گیا۔ ایس پی سیکیورٹی نے ہمیں لیٹر بھیجا ہے جس میں روایتی بہانے بنائے گئے ہیں۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google

WordPress Video Lightbox Plugin