fbpx
پاکستان فن کار

معروف ادیب جمیل جالبی چل بسے

اردو ادب کا معتبر نام، نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ اور جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر جمیل جالبی طویل علالت کے بعد 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

جمیل جالبی کی نماز جنازہ کراچی میں ڈیفنس کی مسجد میں ادا کی گئی اور انہیں بعد ازاں سپرد خاک کردیا گیا۔

معروف ادیب بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں 1929 پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد جمیل خان تھا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی اور 1943 میں گورنمنٹ ہائی اسکول سہارن پور سے میٹرک کیا، جس کے بعد میرٹھ کالج سے 1945 میں انٹر اور 1947 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

اردو ادب کے صف اول کے صحافی سید جالب دہلوی اور جمیل جالبی کے دادا دونوں ہم زلف تھے، محمد جمیل خاں نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا، وہ سید جالب سے بہت متاثر تھے جن کی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ جالبی کا اضافہ کیا۔

قیام پاکستان کے بعد جمیل جالبی اور ان کے بھائی عقیل پاکستان آ گئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔

بعد ازاں جمیل جالبی کو بہادر یار جنگ ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی ملازمت کی پیش کش ہوئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

اسکول کی ملازمت کے دوران ہی انہوں نے ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کر لیے اور 1972 میں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی نگرانی میں قدیم اُردو ادب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کیا۔

جمیل جالبی 1983 میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے، وہ 1987 میں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ادارہ فروغ قومی زبان) کے چیئرمین تعینات ہوئے۔

اس کے علاوہ جمیل جالبی نے 1990 سے 1997 تک اردو لغت بورڈ کراچی کے سربراہ بھی مقرر ہوئے۔

تصانیف

جمیل جالبی کی سب سے پہلی تخلیق سکندر اور ڈاکو تھی جو انہوں نے بارہ سال کی عمر میں تحریر کی اور یہ کہانی بطور ڈرامہ اسکول میں اسٹیج کیا گیا۔

جالبی صاحب کی تحریریں دہلی کے رسائل بنات اور عصمت میں شائع ہوتی رہیں۔

ان کی سب سے پہلی کتاب جانورستان تھی جو جارج آرول کے ناول کا ترجمہ تھا، ان کی ایک اہم کتاب پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ ہے جس کے اب تک 8 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

جمیل جالبی کی دیگر تصانیف و تالیفات میں تنقید و تجربہ، نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، محمد تقی میر، معاصر ادب، قومی زبان یک جہتی نفاذ اور مسائل، قلندر بخش جرأت لکھنوی تہذیب کا نمائندہ شاعر، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، دیوان حسن شوقی، دیوان نصرتی وغیرہ شامل ہیں۔

جمیل جالبی نے قدیم اردو کی لغت، فرہنگ اصلاحات جامعہ عثمانیہ اور پاکستانی کلچر کی تشکیل بھی ان کی اہم تصانیف ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی نے متعدد انگریزی کتابوں کے تراجم بھی کیے جن میں جانورستان، ایلیٹ کے مضامین،ارسطو سے ایلیٹ تک شامل ہیں۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin