پاکستان عدالت

لاہور ہائیکورٹ: عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت، سماعت 23 اپریل تک ملتوی

 لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر ان کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔

بنچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ پوری دنیا میں تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں تفتیش کی کسی بھی سٹیج پر ملزم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس وقاص رؤف مرزا کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ عبدالعلیم خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ ان کے موکل کیخلاف تمام الزامات 12 سال پہلے کے ہیں۔ عبدالعلیم خان کو 11 نوٹس نیب نے بھیجے، وہ تمام نوٹسز کی پیروی میں شامل تفتیش ہوئے۔ ایک سال سے زائد انکوائری کرنے کے بعد بھی نیب نے تسلیم کیا کہ مزید انکوائری کرنی ہے۔

وکیل نے نقطہ اٹھایا کہ اگر انکوائری جاری رہنی ہے تو کسی شہری کی آزادی کو جیل میں رکھ کر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ نیب کے جو بھی الزامات اور دستاویزات ہیں، وہ عبدالعلیم خان نے خود تفتیش میں دیے۔

وکیل نے بتایا کہ عبدالعلیم خان نے اپنے تمام اثاثے اور ان کی ذرائع آمدن اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کئے ہیں۔ ان کیخلاف کوئی شکایت کنندہ نہیں جو کہے کہ عبدالعلیم خان نے کرپشن کی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ 2007ء سے 2019ء تک عبدالعلیم خان کے خلاف کسی قسم کی کوئی انکوائری نہیں کی گئی، اب 2018 میں ایم پی اے بننے کے بعد عبدالعلیم خان کے خلاف انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ دوران تفتیش عبدالعلیم کو گرفتار کرنا خلاف قانون ہے۔

بنچ کے رکن جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ریمارکس دیے کہ عدالت بھی اکثر مقدمات میں نیب سے یہی قانونی میکنزم پوچھ رہی ہے کہ نیب کا کوئی میکنزم نہیں کہ کس ملزم کو کس سٹیج پر گرفتار کرنا ہے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر پوری دنیا میں کسی ملزم کو تب گرفتار کیا جاتا ہے جب اس کے خلاف ٹھوس ثبوت ہوں اور انکوائری مکمل ہو، مگر پاکستان میں تفتیش کی کسی بھی سٹیج پر ملزم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

وکیل نے بتایا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزام کو ثابت کرنے کی ذمہ داری پراسیکیوشن پر عائد ہوتی ہے۔ نیب کے عبدالعلیم خان پر محض الزامات ہیں ثبوت نہیں، ان پر لگائے گئے الزامات ثابت کرنے کے لیے نیب کو کافی عرصہ درکار ہے۔

عدالت نے عبدالعلیم خان کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin