fbpx
پاکستان سیاست

صدارتی نظام لایا گیا تو ملک ٹوٹنے کا خدشہ ہوگا: بلاول بھٹو

 بلاول بھٹو کا کہنا ہے صدارتی نظام لایا گیا تو ملک ٹوٹنے کا خدشہ ہوگا، کرپشن کارڈ کا استعمال کر کے جمہوریت ختم کی جاتی ہے، حکومت کو نکالنا پڑا تو سسٹم میں رہ کر نکالیں گے، چار وزیر ایسے ہیں جن کا کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے۔

 چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت کی دوغلی پالیسی منظور نہیں، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے، ایک دن وزیر کہتے ہیں وہ شہدا کے ساتھ ہیں جبکہ قاتلوں کی بھی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان بنایا، حکومت فیصلہ نہیں کرسکی، شہدا کیساتھ ہے یا قاتلوں کے ؟ سیاستدان شہدا کیساتھ بھی نظر آتے ہیں اور دہشتگردوں کیساتھ بھی، ہم ابہام کا شکار رہے کہ قاتلوں کیساتھ کھڑا ہونا ہے یا مقتولین کے ؟۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ شہدا، متاثرین کو ہم انصاف نہیں دلا سکتے، دہشتگردی سے متاثرہ افراد کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جا رہا، کیا آج تک وزیراعظم نے نیکٹا کا ایک بھی اجلاس بلایا ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان پر کوئی میٹنگ نہیں بلائی، وزیراعظم سلیکٹڈ ہیں، اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیئے، ہماری قیادت اور کارکنوں کو شہید کیا گیا، مظلوموں کے قاتلوں کو عدالتوں میں دیکھنا چاہتا ہوں، 4 روز گزرنے کے باوجود وزیراعظم کوئٹہ نہیں آئے۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin