fbpx
پاکستان ٹی وی

جھوٹی خبریں چلانے پر آے آر وائی اور بول نیوز کو شوکاز نوٹس

پیمرا نے اے آر وائی نیوز اور بول نیوز کو وفاقی کابینہ اور وفاقی وزر ا کے قلمدان میں تبدیلی کی خبر نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کردیے۔

دونوں نجی چینلز نے گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے عہدوں میں ممکنہ تبدیلی کی خبر نشر کی تھی۔

اے آر وائی نیوز  کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو بھیجے گئے نوٹس میں پیمرا نے کہا کہ ٹی وی چینل نے 15 اپریل کی صبح کو وفاقی کابینہ میں رد و بدل اور 5 وفاقی وزرا کے قلمدان تبدیل کرنے سے متعلق بریکنگ نیوز نشر کی تھی۔

اسی طرح پیمرا نے لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ (بول نیوز) کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا کہ چینل نے کابینہ میں تبدیلی سے متعلق ٹکرز چلائے تھے۔

پیمرا کی جانب سے دونوں نشریاتی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ ’ یہ خبر جعلی تھی کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے فوری طور پر ایسی کسی خبر کو مسترد کردیا تھا‘۔

نوٹس میں کہا گیا کہ دونوں چینلز کی جانب سے جھوٹی خبر نشر کرنے کا عمل الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق 2015، پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا قوانین 2009 کی خلاف ورزی ہے۔

چینلز کو جاری نوٹسز میں مزید کہا گیا کہ ’ ایسی خبر نشر کرکے چینل انتظامیہ عوام کے درمیان افراتفری پیدا کررہی ہے اور حکومتی ارکان کو خواہ مخواہ بدنام کررہی ہے‘۔

پیمرا نے قوانین کے مطابق باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کرنے سے قبل اے آر وائی نیوز اور بول نیوز سے سات روز میں جواب طلب کیا ہے۔

نشریاتی اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو 22 اپریل کو ذاتی حیثیت میں یا نمائندے کے ذریعے اسلام آباد میں واقع پیمرا ہیڈکوارٹرز میں پیش ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

پیمرا کے مطابق اگر وہ ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے تو مذکورہ نشریاتی اداروں کے خلاف یک طرفہ اقدامات کیے جائیں گے۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin