پاکستان سانحہ

سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی نے عوام سے مدد مانگ لی

اشتہار میں صوبائی پولیس کی جانب سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ثبوت فراہم کرنے والے فرد کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

ادھر سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو گرفتاری کے 7 روز بعد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا گیا، اتوار کو تعطیل ہونے کی وجہ سے ملزمان کو ڈیوٹی مجسٹریٹ اقرا رحمٰن کی عدالت میں پیش کیاگیا۔

سانحہ ساہیوال کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

اتوار کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ پنجاب  کے 6 اہلکاروں صفدر حسین، محمدرمضان،احسن خان،سیف اللہ عابد، حسنین اکبر اورناصر نواز کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ساہیوال واقعے کے خلاف 16 اہلکاروں کے خلاف تھانہ یوسف والا میں مقدمہ درج ہوا تھا اور 6 کو گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جے آئی ٹی نے 22 جنوری کو 72 گھنٹے مکمل ہونے پر ابتدائی رپورٹ پیش کی تھی، جس پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا تھا کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کا آپریشن 100 فیصد درست تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جے آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق خلیل کا خاندان بے گناہ ہے اور ان کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کو ٹھہرایا گیا ہے، جے آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی کے تمام افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ذیشان جاوید کے بارے میں مزید تفتیش کی مہلت مانگی گئی ہے۔’

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ‘ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی کے 5 اہلکاروں کے خلاف دفعہ 302 کے تحت چالان کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا، ایڈیشنل آئی جی آپریشن پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور ایس پی سی ٹی ڈی کو معطل کردیا گیا ہے۔’

انہوں نے ساہیوال آپریشن کے صحیح یا غلط ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‘آپریشن 100 فیصد درست تھا اور اس میں مارا جانے والا ذیشان گناہ گار تھا، کل میڈیا کے لیے ان کیمرا بریفنگ منعقد کر رہے ہیں جس میں واقعے اور تحقیقات کے تمام معاملات سامنے لائے جائیں گے۔’


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.