پاکستان عدالت

ملک ریاض کے قبضے میں کوئی سرکاری اراضی نہیں ہے، اینٹی کرپشن کے حکام ملک ریاض کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، وکلا کا موقف , 22 فروری تک گرفتار نہ کیا جائے : عدالت

لاہور کی انسداد بدعنوان عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو 22 فروری تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

صوبائی دارالحکومت کی عدالت میں جج بہادر علی خان نے 47 کینال اراضی قبضہ کیس میں ملک ریاض سمیت 8 افراد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران ملک ریاض اور دیگر ملزمان کی جانب سے زاہد حسین بخاری اور اظہر صدیقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

دوران سماعت درخواست گزار ملک ریاض کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کے قبضے میں کوئی سرکاری اراضی نہیں ہے، اینٹی کرپشن کے حکام ملک ریاض کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا ان کی عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

اس پر اینٹی کرپشن کے وکلا کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک پر محکمہ اوقاف کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ ملک ریاض نے 47 کینال اراضی سرکاری زمین پر ہاؤسنگ بنائی۔

تاہم بعد ازاں اینٹی کرپشن عدالت نے ملک ریاض سمیت تمام افراد کی عبوری ضمانتوں میں 22 فروری تک توسیع کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں تھانہ اینٹی کرپشن سرکل راولپنڈی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی سفارشات پر ملک ریاض اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں دھوکا دہی، سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، مجرمانہ غفلت اور جعل سازی کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔

مقدمے میں محکمہ جنگلات کے حکام، ریونیو افسران سمیت سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے چیف سیکریٹری جی ایم سکندر کو بھی نامزد کیا گیا تھا، جن پر دھوکا دہی کے ذریعے زمین فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف اس سے قبل بھی ’زمین پر قبضے‘ سے متعلق مقدمات درج ہوچکے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کی اراضی دینے پر عدالت عظمیٰ فیصلہ بھی دے چکی ہے۔

گزشہ برس مئی میں عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2 ہزار 2 سو 10 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin