پاکستان سیاست

حکومت کو معاشی حالات بہتر کرنے کی سمجھ نہیں،لگتاہے کہ جلد اگلا قدم آئی ایم ایف ہوگا، اپوزیشن نے منی بجٹ مسترد کردیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا منی بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتائے جائے حکومت خسارے کو کیسے پورا کرے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 6 ماہ میں 12ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے اور اب تک حکومت کی پالیسی دوست ممالک سے قرضے لینے کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو معاشی حالات کا ادراک نہیں، حکومت کوسمجھ نہیں کہ ملک کے معاشی حالات کو کیسے بہتر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج حکومت کی بہت بڑے ناکامی ہے، ملکی تاریخ میں پہلے کبھی بھی 6 ماہ میں دوبجٹ پیش نہیں کیے گئے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے 6 ماہ میں دوسرا بجٹ پیش کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ بتایا جائے کہ حکومت خسارہ کیسے پورا کرےگی، قوم کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لگتاہے کہ جلد اگلا قدم آئی ایم ایف ہوگا۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مسلم لیگ ن حکومت کے منی بجٹ کومسترد کرتی ہے، آج قوم کے ساتھ پھر مذاق کیا گیا۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ منی بجٹ امیروں کے لیے اور امیروں سے بنوایا گیا بجٹ ہے اور یہ بجٹ بلیک اکانومی کے لیے دیا گیا ہے، بڑی بڑی کمپنیوں جن میں اسدعمرکام کرتے رہے ہیں، ان کے لیے مراعات دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے ڈرامے کوناکام بنائیں گے اور یوٹرن لینے پر مجبور کریں گے کیونکہ ٹیکسز لگا کر صارفین پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور آٹا مہنگا کرنے کا سامان بنادیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ بجٹ بھی قرضوں پرچلے گا، حکومت کےپاس کوئی لائحہ عمل نہیں، ہم پر قرضے لینے پر تنقید ہو رہی ہے لیکن حکومت بتائے6 ماہ میں کتنے قرضے لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ منی بجٹ عوام دوست نہیں، بجٹ خسارہ بڑھا ہوا ہے اور حکومت کے پاس پیسہ نہیں، اعلان کردہ بہت سی مراعات کے لیے سرمایہ کہاں سے آئےگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پرمہنگائی کا ایک اور بم گرایا گیا ہے، عام بجٹ کی طرح منی بجٹ بھی سرمایہ داروں کا تحفظ کرتا نظرآرہا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کوئی ایک پالیسی بھی عوام کے لیے نہیں ہے، خواص کے لیے بنایا گیا بجٹ عوام مسترد کرتے ہیں، بجٹ بنانے والوں کو خود آٹے دال کا بھاؤ معلوم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خواب غفلت سے نکل کرمہنگائی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے،5 ماہ میں عوام یوٹرن حکومت سے تنگ آگئے ہیں۔

خیال رہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا اور مالی سال کا تیسرا بجٹ پیش کیا جس کو دوسرا ترمیمی بل کا نام دیا گیا تھا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.