پاکستان سیاست

فوجی عدالتیں بننے سے دہشت گردوں میں خوف پیدا ہوا اور دہشت گردی میں بھی کمی آئی، شہباز شریف)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی عدالتوں کے کردار اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر رابطہ کیا تو سوچ بچار کریں گے۔

قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل کو رد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلا مرحلہ نواز شریف کی دوسری پٹیشن پر فیصلہ ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہییے اور اگلے مرحلے میں العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل سنے گی اور عدالت سے انصاف کی امید ہے۔

فوجی عدالتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی آئی اورفوجی عدالتیں بننے سے دہشت گردوں میں خوف پیدا ہوا اور دہشت گردی میں بھی کمی آئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھنا چاہے اور فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیےحکومت نے رابطہ کیا تو سوچ و بچار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا، فوجی عدالتوں، ضرب عضب اور ردالفساد کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ فوجی عدالتیں بنی تو اس کا خوف پیدا ہوا۔

یاد رہے کہ 2017 میں پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کو دو سالہ توسیع ملی تھی اور اس وقت کے صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کے ایل کی منظوری دی تھی اور اس وقت اس معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذکرات کا طویل سلسلہ چلا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دسمبر میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی جماعت فوجی عدالتوں کی دوبارہ توسیع کی حمایت نہیں کرے گے۔

فوجی عدالتوں کی دوسری میعاد رواں سال مارچ میں اختتام کو پہنچے گی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.