شوبز فن کار

انتہائی کم عمری میں فلم میں جنسی طور پر پرکشش دکھانے پر لوگوں کے نازیبا رویوں کا تجربہ ہوا، نتالی پورٹ مین

اسرائیلی نژاد امریکی اداکارہ 37 سالہ نتالی پورٹ مین نے اعتراف کیا ہے کہ پہلی فلم میں ہی انہیں شہوت انگیز دکھائے جانے پر آج تک وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

آنے والی میوزیکل ڈرامہ فلم ’ووکس لکس‘ میں کم عمری میں ہی حادثے کا شکار ہونے کے بعد معروف گلوکارہ بن جانے اور پھر ایک جواں سالہ بیٹی کی والدہ بن جانے کا کردار ادا کرنے والی نتالی پورٹ مین کے مطابق انہیں کم عمری میں ہی جنسی طور پر پرکشش نظر آنے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن جانے کا تجربہ ہے۔

’پیپلز میگزین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں نتالی پورٹ مین کا کہنا تھا کہ انہیں پہلی ہی فلم میں جنسی طور پر پرکشش دکھایا گیا اور یہ ان کے لیے اچھا تجربہ ثابت نہیں ہوا۔

نتالی پورٹ نے بتایا کہ انہیں نہ صرف کم عمری میں لوگوں کے نامناسب رویوں کو برداشت کرنے کا تجربہ ہوا، بلکہ انہیں عدم تحفظ کا احساس بھی ہوا

ووکس لکس میں اداکارہ نے گلوکارہ کا کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ

اداکارہ کے مطابق اگرچہ انہوں نے آنے والی فلم ’ووکس لکس‘ میں ایک کردار ادا کیا ہے، تاہم انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کی زندگی اور تجربات سے متعلق ہی ہے۔

خیال رہے کہ ’ووکس لکس‘ میں نتالی پورٹ مین نے فلم میں ایک ایسی جواں سالہ لڑکی کا کردار ادا کیا ہے، جو اسکول پر فائرنگ حملے سے متاثر ہوتی ہیں اور بعد ازاں گلوکارہ بن کر ابھرتی ہیں۔

فلم میں نتالی پورٹ مین کو ایک جواں سالہ کو فائرنگ جیسے واقعے کو دیکھنے اور بعد ازاں کامیاب گلوکارہ بن جانے کے بعد ایک جواں سالہ بیٹی کی والدہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

’ووکس لکس‘ کو گزشتہ ماہ دسمبر کے آغاز میں ریلیز کیا گیا تھا

نتالی پورٹ مین کی پہلی فلم ’لیون: دی پروفیشنل‘ 1994 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں انہوں نے ایک 13 سالہ بچی کا کردار ادا کیا تھا۔

نتالی پورٹ مین اب تک 50 کے قریب فلموں میں کام کرچکی ہیں اور انہوں نے شاندار اداکاری پر آسکر سمیت دیگر ایوارڈز جیت رکھے ہیں۔

نتالی پورٹ مین نے گزشتہ ماہ دسمبر میں گلوکارہ و اداکارہ 38 سالہ جیسیکا سمپسن کے 1999 میں کرائے گئے فوٹو شوٹ پر نازیبا تبصرہ کیا تھا

نتالی پورٹ مین نے جیسیکا سمپسن کے میگزین سر ورق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اداکارہ بکنی اور انتہائی مختصر کپڑوں میں نظر آ رہی ہیں اور دعویٰ کر رہی ہیں کہ وہ تاحال کنواری ہیں۔

نتالی پورٹ مین کے ایسے بیان پر جیسیکا سمپسن نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا، جس پر بعد ازاں نتالی پورٹ مین نے معزرت بھی کی تھی۔

گزشتہ ماہ دسمبر میں ہی نتالی پورٹ مین نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے اسرائیل کو یہودی ریاست کے پاس کئے گئے قانون کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا۔

نتالی پورٹ مین نے عرب نشریاتی ادارے کو انٹریو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘صہیونی ریاست کا قانون نسل پرستانہ ہے اور یہ ایک غلطی ہے جس سے میں اتفاق نہیں کرتی کہ لوگوں کی زندگیاں ذاتی سطح پر سیاستدانوں کے فیصلے سے متاثر ہوں’۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin