پاکستان طرز زندگی

37 سال ملازمت، راؤ انوار ریٹائر ہو گئے

کراچی:  سابق ایس ایس پی راؤ انوار ملازمت سے ریٹاٹر ہو گئے، انہوں نے 37 سال پولیس میں ملازمت کی، راؤ انوار 1982ء میں سندھ پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے تھے۔

نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم ایس ایس پی راؤ انوار اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔ راؤ انوار سروس کے آخری سالوں میں زیادہ تر ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر تعینات رہے اور اس دوران انہوں نے کئی مبینہ پولیس مقابلے کیے جن میں سے ایک گزشتہ سال جنوری میں بھی سامنے آیا جس میں نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا۔

راؤ انوار کو نقیب اللہ کیس میں مرکزی ملزم نامزد ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا اور اس کے بعد سے ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔ نقیب اللہ قتل کیس کے بعد راؤ انوار اچانک منظر سے غائب ہو گئے تھے اور ایک مرتبہ ان کی اسلام آباد ایئرپورٹ سے بیرون ملک فرار کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔

سپریم کورٹ نے جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیا جس کے بعد راؤ انوار اچانک عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے راؤ انوار کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے جس پر انہیں سپریم کورٹ سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔

کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں راؤ انوار کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہیں تاہم سابق پولیس افسر ضمانت پر ہیں اور انہوں نے گزشتہ دنوں عمرہ کی ادائیگی پر جانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں نام ای سی ایل سے نکالنے کی استدعا کی گئی ہے۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin