fbpx
شوبز فن کار

بھارت میں اور کتنی آزادی چاہیے؟ نصیر الدین شاہ پر انوپم کھیر کی تنقید

بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور تشدد کے واقعات پر چند روز قبل ایک انٹرویو کے دوران بولی وڈ کے ورسٹائل اداکار نصیر الدین شاہ نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ اس ملک میں رہ کر نفرت کا زہر برداشت کیا ہے، یہاں ایک گائے کو ذبح کرنے کے معاملے پر قتل ہوجاتے ہیں۔

نصیر الدین شاہ نے رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں بلند نامی شہر میں مشتعل ہجوم کے تشدد سے پولیس اہلکار کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک گائے کو ذبح کیے جانے کو پولیس اہلکار کے قتل سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی مذہب نہیں، کل اگر کوئی ان کا راستہ روک کر ان سے پوچھے کہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔

انہوں نے آج کل کے بھارت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے بچوں کی حفاظت اور مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے بچوں کے حوالے سے بہت زیادہ پریشان رہتے ہیں۔

نصیر الدین شاہ کے بیان کے بعد جہاں انتہاپسند تنظیم شیو سینا غصے میں آگئی تھی اور انہوں نے اداکار کو بھارت چھوڑ کر پاکستان منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

وہیں حکومتی وزراء نے بھی نصیر الدین شاہ کے بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ بھارت میں تشدد میں اضافہ نہیں ہوا۔

حکومتی وزراء اور شیو سینا کی تنقید کے بعد نصیر الدین شاہ کی جانب سے ریاست راجستھان کے شہر اجمیر میں ہونے والے ادبی میلے کا افتتاح بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔

دونوں نے چند فلموں میں بھی ایک ساتھ کام کیا

تاہم اب نصیر الدین شاہ کے بیان پر سینیئر بولی وڈ اداکار انو پم کھیر نے بھی خاموشی توڑ دی اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انو پم کھیر نے نصیر الدین شاہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارت میں اور کتنی آزادی چاہیے؟

رپورٹ کے مطابق انو پم کھیر کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگ آرمی چیف کے خلاف بات کر سکتے ہیں، فوج پر پتھراؤ کر سکتے ہیں، ایئر چیف مارشل کو بھی برا بھلا کہ سکتے ہیں، تو اس سے زیادہ انہیں اور کتنی آزادی چاہیے؟

انو پم کھیر نے نصیر الدین شاہ کی جانب سے اٹھائے گئے تشدد کے واقعات بڑھ جانے اور لوگوں کے ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے کے معاملے پر بات نہیں کی اور نہ ہی اس پر بات کی کہ بھارت میں انسانوں کی زندگی سے گائے کی اہمیت کیوں ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انو پم کھیر نے ساتھی اداکار کے بیان پر ایک ایسے موقع پر تنقید کی، جب 2 دن قبل ہی بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی نصیر الدین شاہ کے بیان پر کہا تھا کہ بھارت میں تشدد کے واقعات میں اضافہ نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارت میں تشدد میں اضافے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ہندوستان میں تشدد موجود ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

راج ناتھ کے علاوہ بھی دیگر حکومتی وزراء نے نصیر الدین شاہ کے بیان پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

دونوں متعدد تقریبات میں ایک ساتھ بھی شریک ہوتے ہیں

پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

Tags

About the author

زرناش اریحا

زرناش اریحا، آسٹریا کے شہر ویانا میں رہائش پذیر ہیں اور دنیا بھر کی مشہور ویب سائٹس سے خبریں تلاش کر کے پاک ایشیاء کے قارئین، سامعین و ناظرین کے لیے انہیں پاک ایشیاء ویب سائٹ کی زینت بناتیں ہیں۔
زرناش آسٹریا میں بطور کنٹری ہیڈ بھی اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دئے رہیں ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin