fbpx
پاکستان سیاست

نواز، زرداری کشمکش میں ہیں کہ آخری عمر گھر میں گزاریں یا جیل میں‘

ہمارے لیے کوئی سیاسی چیلنج نہیں لیکن اس کے باوجود ہم خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں، وزیر اطلاعات فواد چوہدری 

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہمیں کوئی سیاسی چیلنج نہیں، نواز شریف اور آصف علی زرداری اپنا آخری انتخاب پہلے ہی لڑ چکے ہیں اور ان کی زندگی میں بس یہی ایک بے یقینی کی صورتحال ہے کہ انہوں نے آخری عمر گھر میں گزارنی ہے یا جیل میں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی زندگی میں اس کے علاوہ کوئی بے یقینی صورتحال ہے ہی نہیں، اس لیے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی اندرونی جدوجہد ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف مقدمات سے کیسے بچنا ہے، لوٹی ہوئی دولت کو کیسے ٹھکانے لگانا ہے، ان کی سیاست بس یہی رہ رگئی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی سیاست ہمارے لیے کوئی سیاسی چیلنج نہیں لیکن اس کے باوجود ہم خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اور عمران خان کی سیاست کا محور ہے کہ وزیر اور بیوروکریٹس سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو اقتدار بغیر جدوجہد کے ملا اور انہوں نے اس کی قدر نہیں کی، جس کے باعث پاکستان کی سیاست، گورننس اور اداروں میں تنزلی آئی جبکہ عمران خان کی 22 سالہ کی جدوجہد ہے اور انہیں ملک کا احساس ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے بھینسیں اور گاڑیاں بیچ کر اپنے وزیروں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ یہ حکومت گزشتہ حکومت کی طرح نہیں اور آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تقریباً 4 کروڑ روپے نواز شریف کے علاج پر لندن پر خرچ ہوا اور اتنا ہی اس جہاز پر خرچ ہوا جو انہیں لندن لے کر گیا جبکہ نواز شریف کو اپنا علاج سرکاری خزانے سے کرانے کی کیا ضرورت تھی وہ تو ارب پتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد امیر تھے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جاتی امرا میں ایک اینٹ بھی نواز شریف نے اپنے پیسوں سے نہیں لگوائی بلکہ سرکاری خزانے سے لگی، یہاں تک کہ شہباز شریف کے دور میں پنجاب ہاؤس میں چائے بھی سرکاری خرچ پر پلائی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پی ٹی آئی کی حکومت ہے یا عمران خان ہیں، جنہیں ایک ایک روپے کی فکر ہوتی ہے اور یہی احتساب ہے جو آگے چل کر آئے گا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمارا چیلنج گورننس اور معیشت کا ہے، یہ چیلنج ملا بھی گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے ہے، ان حکومتوں نے قرضے لیے جو اپنی عیاشیوں پر خرچ کیے اور ہمیں ایک کھوکھلا پاکستان ملا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کابینہ کا اتنا طویل اجلاس ہوا اور وزیروں سے ان کی کارکردگی کا پوچھنا ایک نئی روایت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اللہ کا خوف رکھتے ہوئے حکومت چلا رہے ہیں اور ہم مدینہ کی فلاحی ریاست کے خواب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

موبائل فون پر ٹیکس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2 وجوہات کی بنا پر یہ ٹیکس لگایا، پہلی بات یہ ہے کہ ٹیکس ادا ہونا چاہیے اور دوسری بات یہ کہ ایسے ملک میں جہاں پینے کا پانی، صحت اور تعلیم کے مسائل ہیں وہاں اگر دو ڈھائی ارب ڈالر کے اتنے زیادہ موبائل فون اور میک اپ کے سامان منگوائیں گے تو اس کے پیسے کہیں تو ادا کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کلچر لانا پڑے گا ورنہ دوسری صورت میں قرضے لیے جاتے رہیں گے اور ملک غریب ہوتا رہے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے اور یہ ملک ٹھیک ہوگا تو صنعت ٹھیک ہوگی، درآمدات اور برآمدات بڑھیں گی، اس طرح سے پاکستان کو قرضوں سے نجات ملے گی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WordPress Video Lightbox Plugin