fbpx
پاکستان کرائم سٹوری

وزیر سیاحت کی ائر پورٹ پر بد تمیزی، چیف جسٹس نے جھاڑ پلا دی

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کے عملے کے ساتھ گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت فدا حسین کی جانب سے کی جانے والی بدتمزی پر ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا آپ بدمعاش ہیں؟ کیا آپ کو دھکے دیتے ہوئے شرم نہیں آئی؟

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کے عملے کے ساتھ بد تمیزی کے معاملے پر سماعت کی، اس موقع پر وزیر سیاحت گلگت بلتستان فدا حسین عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت فدا حسین سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے دھکے مارے؟ آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں؟ جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ جی میں نے دھکے مارے تھے۔

چیف جسٹس نے وزیر سیاحت سے استفسار کیا کہ کیا اس وقت آپ ہوش میں تھے؟ آپ نے کار سرکار میں مداخلت کی اور ایئر پورٹ پر ایک غریب آدمی کی تضحیک کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پرواز میں تاخیر ہوجائے تو ایسا ردعمل دکھاتے ہیں؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی پولیس کو بلا کر آپ کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے، جس پر وزیر سیاحت نے عدالت کو بتایا کہ ‘میرا ایئرپورٹ ملازم کو دھکے دینے کا مقصد بد نیتی پر مبنی نہیں تھا، میں نے اس کو دھکا دیا لیکن اس کے پیچھے ایک کہانی ہے’۔

بعد ازاں آئی جی اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جب سے آپ آئی جی بنے ہیں آپ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ اپنا غرور اور تکبر گھر چھوڑ کر آیا کریں، یہ عدالت ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایئر پورٹ پر بدتمیزی ہوئی اس پر آپ نے کیا ایکشن لیا، جس پر آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ یہ معاملہ ہماری حدود میں نہیں آتا، یہ پنجاب کی حدود ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کہاں ہیں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل؟ اور اس کے بعد وزیر کی ایئر پورٹ پر بدتمیزی کی ویڈیو کلپ کمرہ عدالت میں چلائی گئی۔

ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے وزیر سیاحت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ بدمعاش ہیں؟ آپ کو دھکے دیتے ہوئے شرم نہیں آئی۔

اس پر گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت فدا خان نے کہا کہ اپنے عمل پر شرمندہ ہوں، عدالت معاف کردے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی معافی نہیں دیں گے، فوری مقدمہ درج کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت اس معاملے کو ازخود نوٹس کے طور پر سنے گی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ پنجاب حکومت وزیر کے خلاف مقدمہ درج کرے۔

عدالت نے وزیر سے مزید کہا کہ آپ تحریری معافی نامہ جمع کرائیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اس معاملے کو دیکھیں گے۔

خیال رہے کہ 16 نومبر کو چیف جسٹس نے وزیر سیاحت گلگت بلتستان فدا حسین کی جانب سے مبینہ طور پر ایئرپورٹ ارائیول انچارج اسلام آباد کو دھکا دینے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

سوشل میڈیا پر فدا حسین کی جانب سے اسلام ایئرپورٹ پر ارائیول انچارج سے مبینہ بدتمیزی کرنے اور انہیں دھکا دینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

 

اس سے قبل گلگت کی فلائٹ تیسرے روز بھی منسوخ کیے جانے پر صوبائی وزیر سیاحت فدا خان، وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ سمیت دیگر مسافروں نے ایئرپورٹ لاؤنج میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے کوٹ جلا دیئے تھے۔

احتجاج کرنے والوں میں صوبائی وزیر سیاحت فدا خان اور وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ بھی شامل تھے جنہوں نے ایئر پورٹ لاونج میں احتجاجاَ اپنے کوٹ جلائے۔

واضح رہے کہ گلگت کی فلائٹ تیسرے روز منسوخ کی گئی تھی جس پر مسافروں نے احتجاج کیا تھا، مذکورہ پرواز میں 25 غیر ملکی مسافروں نے بھی سفر کرنا تھا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google