پاکستان عدالت

نماز نہ اذان، خادم رضوی کی گرفتاری کے بعد سے زیرانتظام مسجد کو تالا ، ہائیکورٹ نے شہری کی درخواست پر سی سی پی او سے جواب طلب کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کے زیر انتظام مسجد کو بند کرنے کے معاملے پر کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کو 3 دسمبر کو طلب کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل سنگل بینچ نے جامع مسجد رحمتہ للعالمین کو بند کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

مسجد کی بندش کے خلاف مذکورہ درخواست شہری طارق عزیز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جن کی جانب سے وکیل طاہر منہاس ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

درخواست میں حکومتِ پنجاب ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مولانا خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد سے مسجد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا جہاں نہ اذان دی جارہی ہے اور نہ ہی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مسجد کے پانی، بجلی اور گیس کے کنیکشن بھی منقطع کر دیے گئے ہیں۔

وکیل درخواست گزار کا موقف تھا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اس کو کسی جماعت یا گروہ سے منسوب نہیں کیا جائے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہمارے ملک کا آئین کسی مسجد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس لیے مسجد کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا جائے اور وہاں اذان دینے اور نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ 23 نومبر کو ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا تھا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے منتقل کیا گیا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اس کارروائی کی ضرورت تحریک لبیک کے 25 نومبر کی احتجاجی کال واپس نہ لینے کی وجہ سے پیش آئی کیونکہ عوام کی جان و مال اور املاک کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہے’۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.