پاکستان تازہ خبر

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا

 وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ہمراہ تھے۔ تقریب میں بھارت کی نمائندگی یونین منسٹر ہرسیمرٹ کور بادل اور ہردیپ سنگھ پوری نے کی۔

 سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کرتارپور میں گورودوارہ دربارصاحب کے قریب ہوئی، جہاں وزیرا عظم عمران خان نے گورو دوارہ دربارصاحب (کرتارپور) سے بھارتی سرحد تک تقریباً 4.4 کلومیٹر طویل راہداری کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزراء شاہ محمود قرشی، شیخ رشید، نوجوت سنگھ سدھو اور دیگر بھی موجود تھے۔بھارت اور دنیا بھر میں بسنے والی سکھ برادری کا گوردوارہ کرتار پور میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کا خواب پورا ہو چلا، یاتری مخصوص پرمٹ پر گرودوراہ کرتار پور تک آ سکیں گے۔ کرتار پور راہدری آمد پر یاتریوں کو قیام اور طعام کی سہولت بھی حاصل ہو گی۔کرتار پور راہداری کھلنے کی خوشی میں دربار صاحب کرتار پور میں جشن منایا گیا۔ رینجرز ونگ کمانڈر، کمشنر گوجرانوالہ اور آر پی او نے کرتار پور کا دورہ کیا، رینجرز، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔حکومت پاکستان کیجانب سے یاتریوں کے لئے گورودوارہ کرتارپور کمپلیکس کی تعمیر نو، بارڈر ٹرمینل کی تعمیر اور دریائے راوی پر پل کی تعمیر اور سڑک کے ذریعے محفوظ رسائی پر سکھ یاتری اور طلبا نے وزیر اعظم عمران خان کی دل کھول کر تعریف کی۔ بھارتی وزیر ہر سمرت کور نے واہگہ بارڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا آج دونوں جانب رہنے والے سکھوں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔کرتارپور کوریڈور پہنچنے والے یاتریوں کو مشین ریڈایبل پاسپورٹ، ویزہ فری انٹری، بس سروس اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بائیو میٹرک نظام سے گزار کر یاتریوں کو خصوصی پر مٹ جاری کیا جائے گا۔ پرمٹ لینے کے بعد یاتری گورودوارہ کرتارپور کمپلیکس پہنچ کر مذہبی رسومات ادا کر کے واپس ہوں گے۔احاطے میں ٹک شاپ بھی بنائی جائے گی جہاں سے یاتری خرید و فروخت کر سکیں گے۔ یاتریوں کے لئے فلاور شاپ، کیفے ٹیریا اور لائبریری کی سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو

نوجوت سنگھ سدھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم عمران خان اور تمام شرکا میری پگڑی کے لعل ہیں، ایک فرشتہ آکر 73 سال کا انتظار ختم کرتا ہے، امن کیلئے سوچ کو بدلنا پڑے گا، ہماری کائنات ہماری جھولی میں ڈال دی گئی۔ انہوں نے کہا مذہب کو سیاست اور دہشتگردی کے چشمے سے نہ دیکھا جائے، خود سے پہلے آپ کی بھلائی کی دعا کرتے ہیں، بہت نقصان ہوگیا، جنگل کی اس آگ کو کوئی بجھانے والا ہونا چاہیئے۔سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے مزید کہا جب بھی کرتارپور کی تاریخ مرتب ہوگی، پہلے صفحے پر عمران خان کا نام ہوگا، بابا نانک کا فلسفہ جوڑنے کا ہے توڑنے کا نہیں، وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کے افسروں نے وعدہ پورا کیا۔ انہوں نے کہا بہت خون خرابہ ہوگیا، بہت نقصان ہوگیا، خون خرابہ بند ہونا چاہیے، امن آنا چاہیے، دونوں حکومتوں کو احساس ہونا چاہیئے کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔

ہرسمرت کور بادل

بھارتی وزیر ہرسمرت کور بادل کا کہنا تھا آج سکھ برادری کیلئے تاریخی دن ہے، آج ہماری ارداسوں کی مراد پوری ہونے جا رہی ہے، جو 70 سال میں نہیں ہوا وہ عمران خان کی حکومت نے کر دیا، جس کے نصیب میں خدمت لکھی تھی اس نے خدمت کر دیا۔ انہوں نے کہا مودی صاحب چائے بیچتے تھے، کبھی انہوں نے بھی یہ سوچا نہیں ہوگا، پاکستان کی دھرتی سکھ مذہب کیلئے بہت مقدس ہے، کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب کچھ ممکن ہوگا، آج دوریاں ختم ہو رہی ہیں۔ہرسمرت کور بادل نے کہا کہ منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کا خاتمہ ہوگا، کرتارپور راہداری کھولنا سکھوں کا بھارتی حکومت سے بڑا مطالبہ تھا۔

شاہ محمود قریشی

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا گرونانک کے امن اور سلامتی کے سبق کو سمجھنے کی ضرورت ہے، گرونانک نے یہاں 18 سال عبادت میں گزارے، کرتارپور راہداری سے باہمی فاصلے سمٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا بابا گرونانک نے اس جگہ محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا، پاک بھارت تناؤ نے سکھ برادری کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنے سے روکے رکھا۔یاد رہے کہ پاکستان کی تجویز پر مودی سرکار نے 22 نومبر کو کرتار پور سرحد کھولنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد 26 نومبر کو نائب بھارتی صدر نے گرداس پور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستانی سرحد تک راہداری کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.