fbpx
پاکستان سیاست

مسلم لیگ ن کے حافظ نعمان نیب کی تحویل میں

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور لاہور پارکنگ کمپنی کے سابق سربراہ حافظ نعمان کو لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر حراست میں لے لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد طارق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حافظ نعمان کی درخواست پر سماعت کی۔

حافظ نعمان نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ 2008 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوا اور اعزازی طور پر لاہور پارکنگ کمپنی کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا اور صرف رسمی طور پر بورڈ اجلاس میں حصہ لیتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہورپارکنگ کمپنی سے کسی بھی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا اور بحیثیت سربراہ اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق سرانجام دیں۔حافظ نعمان کا کہنا تھا کہ 30 دسمبر 2016 کو لاہور پارکنگ کمپنی کی سربراہی سے استعفی دے دیا تھا۔کمپنی کے کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں لاہور پارکنگ کمپنی نے قانون کے مطابق اشتہار دے کر ٹھیکا دیا اور ٹھیکوں میں شفافیت کو مدنظر رکھا گیا۔انہوں نے نیب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پارکنگ کمپنی کے خلاف نیب کی انکوائری غیر قانونی ہے۔ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قانون پر عمل کرنے والا شہری ہوں ہر قسم کی انکوائری کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اس لیے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔نیب کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ حافظ نعمان نے غیر قانونی طور من پسند کمپنیوں کو پارکنگ کا ٹھیکا دیا چیئرمین کے طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔بعد ازاں عدالت نے عدالت نے حافظ نعمان کی ضمانت قبل از گرفتار کی درخواست مسترد کردی اور نیب نے انہیں احاطہ عدالت سے باہر نکلتے ہی گرفتار کرلیا۔خیال رہے کہ حافظ نعمان مسلم لیگ ن کے رہنما ہیں اور گزشتہ 5 سال کے دوران لاہور سے رکن پنجاب اسمبلی بھی رہے اور لاہور پارکنگ کمپنی کے سربراہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے تھے۔

نیب کا اعلامیہ

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی منسوخی پر ملزم حافظ نعمان کو احاطہ عدالت سے باہر سے گرفتار کیا گیا جن پر بطور چیئرمین مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے غیرقانونی ٹھیکے منظورِ نظر افراد کو دینے کا الزام ہے۔نیب کا کہنا ہے کہ کمپنی چیئرمین کا عہدہ عام طور پر نمائشی تصور کیا جاتا ہے لیکن ملزم کی جانب سے انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت رہی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور پارکنگ کمپنی کا این ٹی جی کمپنی کے ساتھ پارکنگ ٹھیکوں کے لیے معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت 246 پارکنگ سائٹس این ٹی جی کے حوالے کرنا تھیں لیکن صرف 33 سائٹس ہی حوالے کی جا سکیں۔نیب کا کہنا تھا کہ اسی حوالے سے26 اپریل 2018 کو سابق سی او تاثیر احمد سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے 8 کروڑ روپے بھی برآمد کروائے جاے چکے ہیں جس میں سے 7 کروڑ 13 لاکھ روپے متعلقہ ادارے کو لوٹا دیے گئے ہیں۔نیب لاہور کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صاف پانی کمپنی کرپشن کیس کے سلسلے میں بھی کارروائی کی گئی اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے5 ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ جولائی 2018 میں انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدو قمرالاسلام کو بھی صاف پانی کمپنی کیس میں کیا گیا تھا، نیب کے مطابق صاف پانی کمپنی کیس کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہو چکا۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google