fbpx
پاکستان سیاست

لوگوں سے پیسے لے کے پرائیوٹ بزنس کو دینا ہمارا فرض نہیں، بجٹ میں میڈیا کا کوئی حصہ نہیں ہوگا:فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات  کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے،حکومت الیکٹرانک میڈیا کے لیے کوئی بجٹ نہیں دے سکے گی۔

قومی سلامتی و تعمیر اور ذرائع ابلاغ کے موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں اربوں روپے کے اضافی سرکاری اشتہارات جاری کیے گئے،سرکاری اشتہارات کی وجہ سےالیکٹرانک میڈیاکےبارے میں غلط تخمینے لگائے گئے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے میڈیا کا مقابلہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتاہے لیکن میڈیا کو اپنے بزنس ماڈل کا از سرنو جائزہ لے کر ماڈرن بزنس ماڈل بنانے چاہیے۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے،ملک پر اربوں ڈالرز کا قرض ہے،درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن سب کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے معاشی حالات اچھے ہوں تو بھی یہ حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے پیسے لے کر پرائیویٹ بزنس کو دے۔انہوں نے کہا کہ وہ طلبا جو ماس کمیونیکیشن پڑھ رہے ہیں اور میڈیا میں جانا چاہتے ہیں وہ یہ ذہن میں رکھیں کہ ہوسکتا ہے کہ 10 سال بعد ٹیلی ویژن ایسا نہ ہو، جیسا اب ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ جس رفتار سے بڑھ رہی ہے آئندہ 10سال بعد میڈیا کی شکل مختلف ہوجائی گی۔وزیراطلاعات کا کہناتھا کہ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کے ارتقاء سے گزر رہی ہے، ایک وقت تھا کہ موبائل کمپنیاں ایس ایم ایس بنڈلز متعارف کرواری تھیں لیکن واٹس ایپ کے آنے سے ایس ایم ایس سروس معدوم ہوگئی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آرٹفیشل انٹییلی جنس جس تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے، اب آپ کو کچھ پتہ نہیں چلے گا کہ کونسی ٹیکنالوجی ختم ہوگئی ہمیں گلوبل چیلنجز کو سامنے رکھنا ہوگا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتارمیں اضافےسےسوشل میڈیاکاریگولیشن مشکل ہوجائےگا، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک ہم فیس بک، ٹوئٹر ، انسٹاگرام کے ساتھ ہمارے تعلقات نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب 70 کی دہائی میں ہم پہلے یہ پیش گوئی کررہے تھے کہ جب میڈیا کا اثر بڑھے گا تو اس سے تصادم بڑھے گا یا کام ہوگا ہم نے دیکھا ہے کہ ایسا ہوا ہے ، جتنی زیادہ انفارمیشن بڑھتی ہے اتنے زیادہ اختلافات بڑھتے ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پیمر ا کو ہم نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہم پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنارہے ہیں کیونکہ پہلے پریس کونسل پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرتی ہے،الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا اور ڈیجیٹل میڈیا کو پی ٹی اے ریگولیٹ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب عملی طور پر دیکھا جائے تو آپ کا موبائل فون آپ کا اخبار ہے، ٹیلی ویژن ہے اور یہی آپ کا ڈیجیٹل میڈیا ہے اس لیے آپ ایک میڈیم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے 3 مختلف اتھارٹیز کی ضرورت نہیں۔اس لیے ہم ان تینوں کو ملا کر ایک ایسی اتھارٹی بنارہے ہیں اور کوشش ہے کہ ایک ماڈرن ریگولیٹری اتھارٹی بناسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ میڈیا انجینئرنگ میں بہتری لاسکیں، ہم پاکستان میڈیا یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی اور پرنٹ کو ایک جگہ لاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیا یونیورسٹی میں ہم انجینئرنگ اور تخلیفہ ٹیکنالوجیز پر کام کرسکیں گے۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google