پاکستان سیاست

زلفی بخاری کا ریکارڈ عدالت میں طلب

 سپریم کورٹ نے زلفی بخاری کا تمام بائیو ڈیٹا، تقرر کا عمل اور اہلیت بارے رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے پاس بے لگام اختیارات نہیں، غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے، دوستی پر نہیں قومی مفاد پر معاملات چلیں گے۔چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے سپریم کورٹ کے نہیں، اٹارنی جنرل زلفی بخاری کو ان کے رویہ بارے آگاہ کریں۔وکیل اعتزاز احسن نے کہا معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے، انکا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے، زلفی بخاری کابینہ کے رکن نہیں، اور سیز پاکستان کے لیے دوہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزہ ہو تو آسانی رہتی ہے، وزیر اعظم تو باراک اوبامہ سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، وزیر اعظم عوام کا ٹرسٹی ہے، اعلی عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے، نہ ہی بندر بانٹ ہو، زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا، کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی، یہ اہم نوعیت کا کیس ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں