پاکستان سیاست

تحریک انصاف اور اتحادیوں میں اختلاف : وجہ تقرر و تبادلے

 پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے درمیان گورنر پنجاب کے حوالے سے اختلافات کی بڑی وجہ بیوروکریسی اور پولیس افسران کی تعیناتیاں بنیں۔ پرویز الٰہی، طارق بشیر چیمہ کی جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو کی آڈیو بھی دانستہ طور پر بند نہیں کی گئی۔

 گورنر پنجاب محمد سرور کی حمایت پر آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی، ڈی پی اوز اور آرپی اوز کی تعیناتیوں پر ق لیگ کو تحفظات تھے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ طارق بشیر چیمہ نہیں چاہتے تھے کہ سہیل تاجک کو آرپی او بہاولپور لگایا جائے اس لئے ان کے اعتراض پر ہی سہیل تاجک کو تبدیل کر دیا گیا، جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی ایڈیشنل آئی جی عامر ذوالفقار کو سی سی پی او لاہور لگوانا چاہتے تھے اور تعیناتی نہ ہونے پر ناراض ہوگئے، انہیں راضی کرنے کے لئے ہی آئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا۔اتحادی جماعت کے رہنما حکومت کے سامنے اپنے تحفظات رکھنا چاہتے تھے اسی لئے پرویز الٰہی، طارق بشیر چیمہ کی جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو میں آواز کو بند نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کو ان حالات سے آگاہ کرنے کیلئے کچھ لوگوں نے کوشش بھی کی تاہم کامیابی نہ ہوئی جس پر ویڈیو کا معاملہ سامنے آیا۔ اتحاد ی جماعت کا ایک اور اعتراض یہ بھی تھا کہ چودھری سرور اتحادی جماعتوں کے حلقوں میں بھی پی ٹی آئی کے پرانے ورکروں کو فعال کر تے ہوئے ان کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔پرویز الٰہی کا موقف جاننے کیلئے جب رابطہ کیا گیا تو ان کے میڈیا ایڈوائزر چودھری اقبال کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو اب ختم کر دیں اس پر بہت بات ہوچکی ہے جبکہ چودھری سرور کے پی آر او جاوید یونس نے کہا کہ گورنر سرور اس حوالے سے بہت بیان دے چکے ہیں مزید اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں