fbpx
پاکستان سیاست

فواد چوہدری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے معافی مانگنے سے متعلق رولنگ دے دی جس میں معافی نہ مانگنے کی صورت میں وزیر اطلاعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں مختلف امور پر بحث کی گئی اسی دوران چیئرمین سینیٹ نے وزیر اطلاعات کے بیان پر اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے احتجاج پر وزیر اطلاعات کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

چیئرمین سینیٹ نے وزیر اطلاعات سے معافی مانگنے سے متعلق رولنگ دی تھی اور معافی نہ مانگنے کی صورت میں وزیر اطلاعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رولنگ کے مطابق وزیر اطلاعات جاری اجلاس کے دوران ایوان میں شرکت نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل اپوزیشن نے فواد چوہدری کے بیان پر ایوان بالا میں احتجاج کیا تھا اور وزیر اطلاعات سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایوان میں بدمزگی زیادہ ہوئی ہے، اس طریقے سے ہاوس کے وقار پر بہت اثر پڑ رہا ہے، اس بدمزگی کا علاج ہمارے پاس تو نہیں سوائے باہر جانے کے۔

انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس اس بدمزگی کا علاج ہے لیکن آپ کی بات بھی نہیں مانی گئی، آپ نے مائیک بند کیا اس کے باوجود بات جاری رکھی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک معافی نہیں مانگی جاتی یہ سب بیکار ہوگا بعد ازاں اپوزیشن نے وزیر اطلاعات کے بیان پر ایوان بالا سے واک آوٹ کیا تھا۔

اس سب پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت دل بڑا کرے، رویا ٹھیک رکھنا حکومت کا کام ہے۔

دو روز قبل مشاہد اللہ خان نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ایوان بالا میں دیے گئے بیان پر سخت ردعمل دیا تھا جس پر حکومتی ارکان نے احتجاج کیا تھا جبکہ فواد چوہدری اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھے تاہم سینیٹر نعمان وزیر اور مشاہد اللہ خان کے درمیاں تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ریڈیو پاکستان میں مالی بحران پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدریکے بیان کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’30 سال کے تجربہ کاروں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا، سابق حکمرانوں نے قومی خزانے کو ایسے لٹایا جیسے ڈاکو ڈانس پارٹی میں لٹاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز،ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کو تباہ کردیا گیا،عوام کے پیسے لوٹنے والوں کو کڑی سزا دینی چاہیے۔

خیال رہے کہ 28 ستمبر 2018 کو مسلم لیگ (ن) نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری پر سینیٹ میں آنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے قومی اسمبلی میں بیان کی مذمت کی گئی تھی۔

3 اکتوبر وفاقی وزیر اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے ایوان بالا میں آکر ایک مرتبہ پھر مشاہد اللہ خان پر تنقید کی تھی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا تھا۔





From Google

WordPress Video Lightbox Plugin