ٹی وی دنیا

سی این این کو تیسری مرتبہ مشتبہ پیکٹ بھیجنے کی کوشش ناکام

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ہیڈ کوارٹر کو تیسری مرتبہ مشتبہ پیکٹ بھجوانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق تیسرا مشتبہ پیکٹ اٹلانٹا سے بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی جسے پوسٹ آفس میں ہی روک لیا گیا۔

ادارے کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ مشتبہ پیکٹ کو سی این این ہیڈکوارٹر میں بھیجنے کی کوشش کی گئی۔

تیسرے مشتبہ پیکٹ کے حوالے سے سی این این کے صدر جیف ذیوکر نے اپنے ورکرز کو جاری کیے جانے والی میمو میں بتایا کہ ‘فوری طور پر ادارے کے مرکز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں’۔

دوسری جانب اٹلانٹا پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں مشتبہ پیکٹ کے پوسٹ آفس میں موجودگی کے حوالے سے صبح 9 بجکر 38 منٹ پر ایک کال موصول ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مذکورہ پیکٹ ان دیگر پیکٹ سے مشابہت رکھتا ہے جو گزشتہ ہفتے بدھ اور جمعہ کے روز ملے تھے، ان پیکٹس کی وجہ سے مشتبہ شخص سیسر سایوک کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل سی این این کو بھیجے جانے والے پیکٹس میں بم کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

پہلا پیکٹ گزشتہ ہفتے بدھ کو نیویارک میں سی این این کے آفس ٹائم وارنر سینٹر  کو بھجوایا گیا تھا جسے 5 گھنٹے تک عمارت کو خالی رکھنے کے بعد کلیئر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ پیکٹ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینان کو بھجوایا گیا تھا جو اس وقت این بی سی میں کام کررہے ہیں۔

دوسرا مشتبہ پیکٹ سی این این کے معاون جیمس کلپر کو بھجوایا گیا تھا جو نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر ہیں، یہ جمعہ کے روز صبح متعلقہ عمارت سے 6 بلاک دور قائم ایک پوسٹ آفس سے برآمد کیا گیا تھا، یہ پیکٹ بھی ٹائمز وارنر سینٹر کے لیے بھجوایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پیر کی صبح برآمد ہونے والے تیسرے مشتبہ پیکٹ کے حوالے سے حکام نے فوری طور پر نہیں بتایا کہ آیا اٹلانٹا سے ملنے والا پیکٹ مشتبہ میل بم کا ہی حصہ ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ بدھ کو ملنے والے پیکٹ کے بعد سی این این ہیڈکوارٹر کے ایڈریس پر بھیجی جانے والی تمام میلز سائٹ آفس کو بھجوائی جارہی ہیں۔

سی این این کے صدر نے ورکرز کو بھجیوائے گئے میمو میں بتایا کہ ‘اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی پیکٹ اب براہ راست ٹی ڈبلیو سی کی جانب نہیں آئیں گے جبکہ انہیں پہلے کہیں اور نہیں دیکھ لیا جاتا’۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں