پاک ایشیاء کے بارئے میں

 کیا کارپوریٹ گھرانوں کے ذریعے چلائے جا رہے  یا خاندانی وراثت بن چکے میڈیا اداروں کے درمیان کسی ایسے ادارے کا تصور کیا جا سکتا ہے جہاں صرف صحافی اور قاری کو اہمیت دی جائے؟ کوئی ایسا اخبار، ٹیلی ویژن چینل، میڈیا ویب سائٹ جہاں مدیر صحافیوں کی تقرری، خبروں کی کوریج جیسے فیصلے ادارہ اور صحافت کے حق کو دھیان میں رکھ‌کر لے، نہ کہ ادارہ مالک یا کسی رہنما یا مشتہرین کو دھیان میں رکھ‌کر۔ کسی بھی جمہوریت میں عوام میڈیا سے اتنی امید تو کرتے ہی ہیں پر پاکستان جیسی  جمہوریت میں میڈیا کے موجودہ ماحول میں مدیر کو یہ آزادی بمشکل ملتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ صحافت کی سطح نیچے جا رہی ہے، حالات  مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

صحافت میں دن بہ دن کئی غلط رواج سامنے آ رہے ہیں جیسے خبروں کو غیر ضروری طریقے سے ترمیم کرنا، پیڈ نیوز، ذاتی تعلقات کے نفع کے لئے کچھ خبروں کو چلانا وغیرہ۔ میڈیا ادارے اب خبر تک پہنچنا نہیں چاہتے۔ اس کے برعکس صحافت کی آڑ میں تجارتی معاہدے کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ کچھ اہم اطلاعات اور خبریں عوام تک پہنچتی ہی نہیں ہیں کیونکہ میڈیا ادارہ ان کو کسی شخص یا خاص ادارہ کو نفع پہنچانے کے مقصد سے سامنے لانا ہی نہیں چاہتے۔ آہستہ آہستہ ہی صحیح پر عوام بھی اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ صحافت  خطرے میں پڑ رہی ہے۔ عام لوگوں کا میڈیا پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ وہی میڈیا جو جمہوریت کا ‘ چوتھا ستون ‘ ہونے کا دم بھرتا تھا، اپنا اعتبار کھوتا جا رہا ہے۔

23 مارچ2015 میں ‘ پاک ایشیاء ٹی وی ‘ کے وجود میں آنے کی خاص وجہ یہی تھی۔ اب اسی مقصد کے ساتھ ہم نے ویب ٹی – وی کے ساتھ اس کی اردو ویب سائٹ کا آغاز بھی کردیا ہے۔ اگر صحافت کو بچائے رکھنا ہے تو اس کو مدیرانہ اور اقتصادی آزادی دینی ہی ہوگی۔ اور اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ عام لوگوں کو اس میں شراکت دار بننا ہوگا۔ جو قاری اس طرح کی صحافت بچائے رکھنا چاہتے ہیں، سچ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ خبر کو صاف گوئی سے پیش کیا جائے نہ کہ کسی کے فائدے کو دیکھ‌کر تو وہ اس کے لئے سامنے آئیں اور ایسے اداروں کو چلانے میں مدد کریں۔

ایک ادارے کی شکل میں ‘ پاک ایشیاء ٹی وی ‘ کا اردو ورژن مفاد عامہ اور جمہوری اقدار کے مطابق چلنے کے لئے پابند ہے۔ خبروں کے تجزیہ اور ان پر تنقید کرنے کے علاوہ ہمارا مقصد رپورٹنگ کی روایتی تصویر کو بچائے رکھنے کا بھی ہے۔ جیسےجیسے ہمارے وسائل بڑھیں‌گے،ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کریں‌گے۔

اس مقصد کی طرف یہ ہمارا چھوٹا ہی صحیح پر اہم قدم ہے۔ صحافت  کی اس صورت کو لےکر ہماری سوچ‌کے راستے میں صرف ضروری وسائل کی عدم دستیابی ہی رکاوٹ ہے۔ قارئین سے ہماری بس اتنی سی گزارش ہے کہ ہمیں پڑھیں، شیئر کریں، اس کے علاوہ اس کو اور بہتر کرنے کے لئے اپنے قیمتی مشوروں اور آراء سے نوازیں۔

پاک ایشیاء ٹی وی پاکستان کا پہلا باقاعدہ ویب ٹی وی چینل ہے جو 23 مارچ 2012 سے اپنی نشریات کے ذریعہ پاکستان کی آواز دُنیا بھر کے سامعین کے پیش نظر کر رہا ہے اور لانچ ہونے کے بعد ہی سے پاک ایشیاء ڈاٹ ٹی وی نے نیوز ویب سائٹوں میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا ہے۔

پاک ایشیاء ڈاٹ ٹی وی پرآپ پل پل بدلتی خبروں کے علاوہ، فوٹو فیچر، تجزیے اور تازہ ترین ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔  پاک ایشیاء ٹی وی دیکھنے کے لیے آپ کو کسی ٹی وی یا کیبل کنکشن لگوانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ اسے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا پھر اپنے موبائیل پر بھی با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔


ہمارے نقطہ نظر

جدید دور کے تقاضوں اور سوشل میڈیا کی توسط سے ویب چینل پر نشر ہونے والی خبر سٹلائیٹ ٹی وی کی نسبت زیادہ تیزی سے عوام و الناس میں گردش کرتی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ز پر لوگوں کی آراء کی وجہ سے خبر میں پیش کیے گئے مسئلہ کا جلد سدِباب ہونے کا امکان بھی کئی گنُا بڑھ جاتا ہے۔

ویب سائٹ کے ذریعے شائع ہونے والی خبر کا اثر دیگر خبری میڈیمز کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتا ہے کیونکہ ویب سائٹ تقریباً تمام اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے منسلک ہوتی ہے اور اس پر شائع ہونے والی خبر، ہونے والے واقعے کے چند منٹ یا گھنٹوں بعد شائع ہو جاتی ہے جب کے اخبار میں شائع کروانے کے لیے آپ کو پورے ایک دن کا انتظار کرنا پڑے گا، نیز اس پر تصاویر کے ہمراہ آپ کی ویڈیو بھی چل سکتی ہے۔
اس کے اور بہت سے فوائد ہیں جیسا کہ آپ کی خبر جہاں جہاں اردو سمجھی یا بولی جاتی ہے پہنچے گی بلکہ ترجمہ کی سہولت کی بنیاد پر  60 سے 70 زبانوں میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔