fbpx
دنیا

طالبان کونسل افغانستان میں جنگ بندی پر رضامند

کابل: طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں عارضی جنگ بندی پر رضامند ہیں جس سے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستؒخط کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امن معاہدے کے نتیجے میں واشنگٹن افغانستان میں 18 سال سے جاری رہنے والی جنگ کے بعد اپنی افواج کو واپس ملک میں بلاسکتا ہے۔

اس معاہدے میں امریکا طالبان کی جانب سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد گروہ کے لیے بیس کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس وقت امریکا کے 12 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں، توقع ہے کہ طالبان سربراہ معاہدے کو منظور کرلیں گے۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی مدت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم اطلاعات ہیں یہ کہ 10 روز تک جاری رہ سکتی ہے۔

جنگ بندی پر رضامند ہونے سے قبل طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے 4 اراکین نے حکمران کونسل سے ایک ہفتے تک ملاقاتیں کیں جس کے بعد مذاکرات ٹیم اتوار کے روز اپنے سیاسی دفتر قطر واپس آگئی۔

تنازع میں دونوں طرف کے افغانوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات انتہائی اہم ستون ہے جس کے لیے ایک سال سے امریکا اور طالبان کے درمیان ادھیڑ بن جاری ہے۔

امریکا اور طالبان کے مابین معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 2 ہفتوں میں بیان الافغان مذاکرات ہونے کی توقع ہے جو اس بات کا تعین کریں گے جنگ کے بعد افغانستان کا مننظر نامہ کیسا ہوگا اور طالبان اس میں کیا کردار ادا کریں گے۔

ان مذاکرات میں متعدد پہلوؤں پر بات کی جائے گی جن میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار رائے اور ہزاروں طالبان قیدی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے دولت اور طاقت کا غلط استعمال کرنے والی مسلح ملیشیا کا مستقبل شامل ہے۔

اس عارضی جنگ بندی کی تجویز امریکی سفیر برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کے گزشتہ دور کے دوران پیش کی تھی۔

حالیہ جنگ بندی ایک ہفتے سے 10 روز تک قائم رہے گی اور اس دوران امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، ایک طالبان عہدیدار کے مطابق جنگ کے بعد افغانستان کا منظر نامہ تنازع کے دونوں اطراف موجود افغانوں کے درمیان بات چیت سے طے کیا جائے گا۔

افغان امن عمل منسوخ ہونے کے بعد کیا ہوا؟

یاد رہے کہ رواں برس 8 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ’غیر معمولی نقصان‘ کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مستقبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا، جس کے بارے میں طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہے۔

بعد ازاں طالبان وفد نے 29 ستمبر کو بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور چینی نمائندہ خصوصی ڈینگ ژی جون سے ملاقات کی تھی۔

ان مذاکرات کی معطلی سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے امریکی اور طالبان نمائندوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

لہٰذا اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو ممکنہ طور پر امریکا، افغانستان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج واپس بلانے کا لائحہ عمل طے کرتا جبکہ طالبان کی جانب سے یہ ضمانت شامل ہوتی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوگا۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں


لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں