fbpx
کرکٹ کھیل نمایاں

شاہد آفریدی کی ایغور مسلمانوں سے متعلق اپیل پر چینی وزارت خارجہ کا جواب

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کچھ روز قبل چین میں مقیم مسلم اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر آواز اٹھائی تھی جس کا جواب چینی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بذریعہ ٹوئٹ دیا ہے۔

چین کے سنکیانگ ریجن میں ایک کروڑ سے زائد ایغور مسلمان آباد ہیں جنہیں مبینہ طور پر حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے چند روز قبل شاہد آفریدی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم سے ایغور مسلمانوں کیساتھ نارواسلوک پر آواز اٹھانے کی اپیل کی تھی۔

شاہد آفریدی نے اپنی ٹوئٹ میں چین کے مسلمانوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور وزیراعظم عمران خان سے  کہا تھا کہ چین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں، مسلم امہ کو متحد کرنے کی بات ہوتی ہے تو چین کے مسلمان بہن بھائی بھی اس میں شامل ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں پاکستان میں چینی سفارتخانے کو بھی ٹیگ کیا تھا اور اپیل کی کہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے۔

شاہدآفریدی کا ایغور مسلمانوں کی حمایت میں کیا گیا ٹوئیٹ جو انہوں نے بعد میںڈیلیٹ کر دیا

مگر بعدازاں کچھ ہی دیر میں شاہد آفریدی نے اپنی اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

ایسے میں چینی وزارت خارجہ کے محکمہ اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی جن زہاؤ نے شاہد آفریدی کو بھی ان کی ٹوئٹ کا جواب ٹوئٹ کے ذریعے دیا۔

لی جن زباؤ لکھتے ہیں کہ’ مجھے لگتا ہے کہ آپ چین کے خلاف مغربی پروپیگنڈے سے کافی گمراہ ہو چکے ہیں، آپ کو  حالات دیکھنے کے لیے چین کے سنکیانگ ریجن میں خوش آمدید کہا جاتا ہے، آپ کو ایک مختلف سنکیانگ دیکھنے کو ملے گا۔

انہوں نے لکھا کہ مغرب چین کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو اُکسا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایک امریکی ٹک ٹاک اسٹار فیروزہ عزیز نے بھی چین کے مسلمانوں کی حالتِ زار سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی ویڈیو بنائی تھی جو خوب وائرل ہوئی تھی۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں




	
			
	
			
	

About the author

زرناش اریحا

زرناش اریحا، آسٹریا کے شہر ویانا میں رہائش پذیر ہیں اور دنیا بھر کی مشہور ویب سائٹس سے خبریں تلاش کر کے پاک ایشیاء کے قارئین، سامعین و ناظرین کے لیے انہیں پاک ایشیاء ویب سائٹ کی زینت بناتیں ہیں۔
زرناش آسٹریا میں بطور کنٹری ہیڈ بھی اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دئے رہیں ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.