fbpx
انٹرنیٹ دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کمپیوٹنگ

انٹرنیٹ پر امریکی بالادستی کے خاتمے کا آغاز، روس کا اپنا انٹرنیٹ نظام قائم کرنے کا تجربہ کامیاب

Russia claims it has successfully tested its own internet - PAKasia

ماسکو: برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عالمی انٹرنیٹ کے متبادل انٹرنیت کا پورے ملک میں کامیاب تجربہ کیا ہے۔

اس تجربے کی تفصیلات مبہم ہیں تاہم وزارت مواصلات کے مطابق عام صارفین کو کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔اب ان نتائج کو صدر پوتن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے عالمی دنیا کے انٹرنیٹ کی جگہ پورے ملک میں ’ان پلگ انٹرنیٹ‘ کا کامیاب تجربہ کیا۔

وزارت مواصلات کا دعویٰ ہے کہ عام صارفین کو سروس کی تبدیلی بالکل محسوس نہیں ہوئی، انٹرنیٹ کے کامیاب تجربے کے نتائج صدر پیوٹن کے سامنے جلد پیش کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ روس کے ان اقدامات کا مقصد اپنے نیٹ ورک کے ذریعے عالمی ہم منصب سے تعلق کو محدود کرنا اور انٹرنیٹ صارفین کی رسائی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

ماہرین کچھ ممالک کے انٹرنیٹ تک رسائی ختم کرنے کے رجحان پر تشویش کا شکار ہیں۔

عام صارفین کو کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی، وزارت مواصلات

یونیورسٹی آف سرے کے کمپیوٹر سائنسدان پروفیسر ایلن ووڈوارڈ کا کہنا ہے ’ افسوس کی بات ہے کہ روس کے اس سفر کا رخ حکومت انٹرنیٹ کو توڑنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔‘

’آمرانہ ممالک جو چاہتے ہیں کہ وہ شہریوں کی انٹرنیٹ رسائی کو کنٹرول کر سکیں وہ ایران اور چین کی جانب دیکھتے ہیں جو پہلے ہی ایسا کر چکے ہیں۔‘

’اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس بارے میں بات کرنے تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے کہ ان کے ملک میں کیا چل رہا ہے اور وہ اپنے آپ میں ہی رہیں گے۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس متنازع انٹرنیٹ قانون کے تحت روس کی انٹرنیٹ ٹریفک کو عالمی سرور سے علیحدہ کر دیا جائے گا تاہم روسی وزارت مواصلات نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیسٹ سے عام صارفین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

روس کے  ڈپٹی منسٹر مواصلات ایلکس سوکولو نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ ’اس ٹیسٹ کا مقصد روس میں انٹرنیٹ سروسز کو کسی ناگہانی صورتحال میں بحال رکھنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز بحال رہیں اور اس ٹیسٹ کا مقصد بھی یہی ہے۔

نومبر2019 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنی کو ڈیٹا ٹریفک کو سنٹرلائزڈ کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے دیے گئے آلات استعمال کرنے ہوں گے۔

قانون منظور ہونے کے بعد روسی صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’حکومت انٹرنیٹ بند نہیں کرنے جا رہی، بلکہ آزاد اور خودمختار انٹرنیٹ میں بہت فرق ہے۔‘

سال 2019 کے آغاز میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ روس دنیا سے الگ انٹرنیٹ کی خاطر اپنے ملکی ڈومین سسٹم کا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد غیرملکی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنا اور ممکنہ سائبر حملوں سے تحفظ ہے۔

روس کے وزارتِ مواصلات کی جانب سے علیحدہ انٹرنیٹ یا کامیاب تجربے کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی۔


مقامی انٹرنیٹ کیسے کام کرتا ہے؟

ان اقدامات کا مقصد روس کا اپنے نیٹ ورک کو اپنے عالمی ہم منصب سے تعلق کو محدود کرنا اور انٹرنیٹ تک شہریوں کی رسائی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

پروفیسر ووڈ وارڈ کہتے ہیں ’اس سے آئی ایس پیز (انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے) اور ٹیلی کمینونیکیشن کمپنیوں کو اپنی حدود میں ایک بڑا انٹرنیٹ تشکیل دینے میں مدد ملے گی جیسا کہ ایک بڑی کمپنی کرتی ہے۔‘

تو حکومت کس طرح سے ایک ’خود مختار رنیٹ‘ قائم کرے گی؟

ممالک زیر سمندر تاروں یعنی نوڈز کے ذریعے بین الاقوامی ویب سروسز وصول کرتی ہیں، جہاں سے دوسرے ممالک کے مواصلاتی نیٹ ورکس پر اور دوسرے ممالک کو ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے رابطے کے مقامات ہوتے ہیں۔ ان مقامات کو بند کرنے یا کم از کم ان کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Online Work - PAKasia

اس کے لیے مقامی آئی ایس پیز کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر صرف مٹھی بھر ریاستی ملکیت والی فرمز بھی اس کام کا حصہ بن جائیں تو ایسا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایک ملک کے پاس جتنے زیادہ نیٹ ورک اور رابطے ہوں گے، وہاں رسائی پر کنٹرول حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔

پھر روس کو متبادل نظام بنانے کی ضرورت ہو گی۔

ایران میں نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک ویب سروسز تک رسائی کی اجازت دیتا ہے لیکن نیٹ ورک پر موجود تمام مواد کی نگرانی کی جاتی ہے اور بیرونی معلومات کو محدود رکھا جاتا ہے۔ اسے ایران کی سرکاری ٹیلی کمیونیکشن کمپنی چلاتی ہے۔

انٹرنیٹ رسائی کو حکومت کے زیر کنٹرول لانے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک (وی پی این)، جو اکثر بلاکس کو روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، کام نہیں کریں گے۔

اس کی ایک اور مثال چین کی نام نہاد گریٹ فائر وال ہے۔ یہ بہت سی بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز تک رسائی کو بند کرتی ہے جس کی بدولت بہت سی مقامی کمپنیوں کو اپنے پیر جمانے میں مدد ملی۔

روس کی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں یانڈیکس اور میل پہلے ہی چیمپئین ہیں لیکن دوسری مقامی کمپنیوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

روس کا اپنا وکی پیڈیا بنانے کا بھی منصوبہ ہے اور سیاست دان ایک ایسا بل بھی منظور کر چکے ہیں جس سے ایسے تمام سمارٹ فونز کی فروخت پر پابندی ہو گی جس میں روس کا سافٹ ویئر انسٹال نہیں ہو گا۔


تکنیکی مشکلات

ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی سے آذادی اظہار پر پابندی لگ سکتی ہے لیکن یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہو گا۔

تھنک ٹینک نیو امریکہ میں سائبر سیکورٹی پالیسی کے فیلو جسٹن شیرمن نے بی بی سی کو بتایا ’ماضی میں آن لائن کنٹرول حاصل کرنے میں روسی حکومت کو تکنیکی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جیسے روسی شہریوں کو خفیہ میسجنگ ایپ ٹیلی گرام تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں بڑی حد تک ناکام کوششیں۔‘

’اس تجربے کی ناکافی معلومات کی وجہ سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ روس کو الگ تھلگ انٹرنیٹ کے اس سفر میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘

’اور کاروباری نقطہ نظر سے ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ روس کو ملکی اور غیر ملکی سطح پر کتنے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

cyber security - PAKasia

پراودا سمی کئی مقامی نیوز ایجنسیز کے مطابق وزارت مواصلات کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ یہ تجربہ منصوبہ بندی کے تحت سرانجام پایا ہے۔

الیکسے سوکولو نے کہا ہے ’مشقوں کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روسی فیڈریشن میں عام طور پر، حکام اور ٹیلی کام آپریٹرز دونوں، ابھرتے خطرات کا مؤثر انداز میں جواب دینے اور انٹرنیٹ اور متحد ٹیلی مواصلات نیٹ ورک کے مستحکم کام کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔‘

روس کی سرکاری نیوز ایجنسی تاس کی اطلاعات کے مطابق ان تجربات میں انٹرنیٹ کے حامل آلات کی کمزوری کا اندازہ لگایا ہے اور اس میں ’بیرونی منفی اثرات‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے رنیٹ کی صلاحیت کو جانچنے کی ایک مشق بھی شامل ہے۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں


لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں

About the author

ویب ڈیسک

ہمارا ویب ڈیسک پاکستان اور ایشیاء سمیت دُنیا بھر میں رُونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے اور آپ کو باخبر رکھنے کے لیے خبروں کا انتخاب کر کے انہیں موزوں پیرائے اور اسلوب میں ڈھال کر آپ کے پیشِ نظر کرتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.