fbpx
پاکستان سیاست

لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ سے کیس ہتھیایا: جسٹس وجیہہ الدین

واشنگٹن — جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ سنگین غداری کیس کی خصوصی عدالت سے متعلق کیس لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ اس نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہے، کیونکہ خصوصی عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی۔ حکومت پاکستان اس کیس کی مدعی تھی، وہ اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد اس کے خلاف کسی عدالت میں کیسے جا سکتی ہے؟

انھوں نے ان خیالات کا اظہار مشہور امریکی نشریاتی ادارئے وائس آف امریکہ کے ساتھ فیس بک لائیو انٹرویو میں کیا۔

جسٹس وجیہہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی کوئى نظیر نہیں ملتی۔ اس نے سپریم کورٹ سے کیس سے ہتھیایا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اس طرح کام نہیں کرتی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اے کے ڈوگر کی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق پٹیشن کو بھی نہیں سنا گیا۔ سنگین غداری کیس میں جنرل مشرف کے پاس اپیل کا آپشن تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ عام طور پر خصوصی عدالتیں آئین کے آرٹیکل چھ اور اس کے ماتحت رولز پر بنائى جاتی ہیں۔ حکومت نے جنرل مشرف کے وکیل سے بھی بڑھ کر اس کیس کی پیروی کی۔ حکومت کے وکیل نے کمزور دلیل دی کہ جنرل مشرف کے خلاف کیس صرف سابق وزیراعظم نواز شریف کی صوابدید پر بنایا گیا اور کابینہ اجلاس میں ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کی اجازت سے کوئى بھی مسئلہ زیر غور آسکتا ہے۔ اگر یہ کیس ایجنڈے کا حصہ نہیں بھی تھا لیکن زیر غور آیا تو یہ کافی ہے۔

جسٹس وجہہ کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر دائرہ اختیار سے متعلق کسی ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے چھ ماہ کا عرصہ ہوتا ہے۔ لیکن، اس کیس میں چھ سال سے کارروائی تاخیر کا شکار تھی۔ جنرل مشرف کو اب کیوں ہوش آیا؟ اور وہ بھی اس وقت جب استغاثہ کے سارے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے۔ چاہے وہ ان کی موجودگی میں قلم بند کیے گئے ہوں یا ان کے وکیل کی موجودگی میں۔ جب ان کے بیان کے باری آئى تو انہوں نے بیان ریکارڈ کرانے سے اتفاق نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ جنرل مشرف کا ایمرجنسی سے متعلق کیس آرٹیکل چھ کے زمرے میں نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو اٹھارویں ترمیم کے ماتحت ترمیمی ورژن میں آتا ہے۔

جسٹس وجیہہ الدین نے بتایا کہ 2007 میں صدارتی انتخاب کو چیلنج کیا گیا اور جنرل مشرف کو محسوس ہوا کہ فیصلہ ان کے خلاف آنے والا ہے تو انہوں نے ایمرجنسی لگادی اور جج صاحبان کو گھروں پر نظر بند کر دیا۔ اس سے بڑھ کر آئین سے غداری کیا ہوگی۔ آئین میں ایمر جنسی لگانے کی گنجائش ہے لیکن اس کے لیے قومی اسمبلی اور صوبائى اسمبلیوں سے رجوع کیا جاتا ہے۔ فرد واحد یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔

جسٹس وجیہہ کے مطابق، جنرل مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ اس وقت تک درست تسلیم کیا جائے گا جب تک سپریم کورٹ خود اپنی ہی بنائى ہوئى خصوصی عدالت کے فیصلے کو تبدیل نہیں کردیتی۔


About the author

ویب ڈیسک

ہمارا ویب ڈیسک پاکستان اور ایشیاء سمیت دُنیا بھر میں رُونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے اور آپ کو باخبر رکھنے کے لیے خبروں کا انتخاب کر کے انہیں موزوں پیرائے اور اسلوب میں ڈھال کر آپ کے پیشِ نظر کرتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

ہماری ٹیم کا حصہ بنیں

اگر آپ پاک اشیا ویب ٹی-وی کے رپورٹر بن کر ویب چینل پر آنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ٹیم کا حصہ بنیں اور معمولی سی فیس ادا کر کے اپنے کام کا آغاز کریں