fbpx
پاکستان سیاست نمایاں

’یہ قوم بدقسمت ہو گی اگر اس نے عمران خان سے فائدہ نہیں اٹھایا‘

کراچی: وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ اگر اس قوم نے وزیر اعظم عمران خان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ قوم بڑی بدقسمت ہو گی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے ایک پاکستانی نشریاتی ادارے ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقتدار میں آکر تو لوگوں کی ڈائمنڈ کی کانیں نکل آئی تھیں لیکن ہماری جدوجہد عوام کے لیے اور بدعنوانی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر طرح کی بدعنوانی کی گئی ہے۔ لیڈر لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے اور اس پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں۔ کراچی میں آج بھی ایم کیو ایم موجود ہے لیکن کراچی پر امن ہے۔ بانی ایم کیو ایم ٹھیک نہیں تھا تو پارٹی ٹھیک نہیں تھی۔

علی زیدی نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) آزاد ادارہ ہے اور وہ اپنی مرضی سے میرٹ کی بنیاد پر کارروائی کر رہا ہے جبکہ عدالتیں بھی خود فیصلہ کر رہی ہیں۔ اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے تاہم پراسیکیوشن میں مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کابینہ میں بہت زیادہ بحث ہوتی ہے اور لوگ اتفاق بھی کرتے ہیں اور نہیں بھی کرتے۔ موجودہ کابینہ میں عمران خان کے فیصلوں کے خلاف بھی لوگ بولتے ہیں۔ ہم سے عوام کو بہت زیادہ امیدیں تھیں اور عوام چاہتی تھی فوراً تبدیلی آئے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے معاملات درست ہونے میں وقت لگتا ہے۔ حکومت چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔

علی زیدی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 2023 کے انتخابات میں کوئی دوسری جماعت ہمارے مقابلے میں نہیں ہو گی۔ وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی اس لیے مخالفت کی کہ وہ مجرم ہیں ان پر الزامات نہیں ہیں۔ جو غلط کرے گا وہ بچ نہیں پائے گا چاہے وہ حکومتی رکن ہو یا حزب اختلاف کا رکن ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی پراسیکیوشن کو مضبوط کرنا ہو گا۔ عدالتوں کے معاملات کیوں چھپائے جاتے ہیں اسے دنیا کو دکھایا جائے۔ ہمیں جوڈیشل میں بھی ریفارمز کرنا پڑے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر اس قوم نے عمران خان کا فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ بڑی بدقسمت قوم ہو گی۔ کراچی کے مسائل مقامی مسائل ہیں اور انہیں مقامی حکومتوں نے ہی بہتر کرنا ہے۔ میں نے 44 دن تک کراچی کا کچرا اٹھایا لیکن جب سندھ حکومت میدان میں آ گئی تو ہم پیچھے ہٹ گئے کیونکہ یہ اُن کا کام تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو چیک نہیں بانٹیں گے بلکہ جو منصوبے پر کام ہو گا اسی کے چیک جاری کیے جائیں گے۔ کراچی میں بڑے بڑے ڈرامے ہوئے ہیں یہاں تو کے فور پانی کے منصوبے کی فزیبلیٹی رپورٹ ہی گم گئی ہے وہ نہ جانے مکمل بھی ہو گی یا نہیں۔

علی زیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کرتے ہوئے 12 سال ہو گئے لیکن کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کا انتہائی برا حال ہے اس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ اگر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں ںے کہا کہ سیاسی نظریے سب کے الگ الگ ہیں لیکن سندھ کو وفاق کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ کراچی کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے یہ سب آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔ سال 2020 کی پہلی سہہ ماہی میں کراچی کے لیے بہت اچھے پیکج کا اعلان کروں گا۔ سال 2020 پاکستان کی تبدیلی کا سال ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری شپنگ پالیسی یہ ہے کہ اگر جہاز خرید کر پاکستان میں رجسٹرڈ کرتے ہیں تو کوئی سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی نہیں ہو گی۔ شپنگ کو اسٹریٹجگ انرجی بنا دیا گیا ہے اور ہم پرائیویٹ سیکٹر کو دعوت دے رہے ہیں کہ آئیں اور سرمایہ کاری کریں۔


اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں


لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی“ کے آپشن یا یہاں کلک کریں

About the author

ویب ڈیسک

ہمارا ویب ڈیسک پاکستان اور ایشیاء سمیت دُنیا بھر میں رُونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے اور آپ کو باخبر رکھنے کے لیے خبروں کا انتخاب کر کے انہیں موزوں پیرائے اور اسلوب میں ڈھال کر آپ کے پیشِ نظر کرتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.