fbpx
پاکستان سیاست

بھارت نے ایل او سی پر براہموس میزائل نصب کیے ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر براہموس میزائل نصب کیے ہیں۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق بھارت نے لائن آف کنٹرول پر 5 جگہوں سے باڑ کو کاٹا ہے اور براہموس، اسپائک میزائل نصب کیے ہیں اس کا مقصد کیا ہے۔

انہوں نے بھارت کا کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں احتجاجی ریلی نہ نکلی ہو،مقبوضہ کشمیر کی جو صورتحال تھی وہاں جو ظلم اور بربریت طاری ہے اسے بھارت نے مواصلاتی بلیک آؤٹ کے ذریعے دبالیا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کی رسائی نہیں تھی کیمرے کی آنکھ وہاں نہیں پہنچ پائی تو جو ظلم اور بربریت وہاں ہوئی وہ ٹیلی ویژن اسکرینز پر نمایاں نہیں ہوئی لیکن کیا پورے بھارت میں کرفیو لگایا جاسکتا ہے، کیا پورے بھارت میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کیا جاسکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے نریندر مودی سرکار کی قلعی کھل گئی ہے ان کی ہندوتوا سوچ بے نقاب ہوگئی ہے اور آج بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ پارسی، عیسائی، سکھ، دلت اور بہت سی کمیونیٹیز مل کر احتجاج کررہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کا شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 جو اب قانون کی شکل اختیار کرگیا ہے لیکن بھارت کی 5 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ یہ بھلے قانون بن گیا ہم اپنی ریاست میں اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آسام، مغربی بنگال ، مدھیا پردیش سمیت کئی ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ نے خود ریلیوں کی قیادت کی، علی گڑھ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت بھارت 2 سوچوں میں بالکل تقسیم دکھائی دے رہا ہے ایک جو سیکولر بھارت کا پرچار کررہی ہے اور دوسری ہندوتوا کے فلسفے کو مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو بات اب چلی ہے وہ تھمتی دکھائی نہیں دے رہی، بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ چدمبرم نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ یہ بھارت کے آئین پر حملہ کیا گیا ہے اور توقع کا اظہار کیا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس ترمیم کو مسترد کرے گا کیونکہ یہ ان کے آئین سے متصادم ہے‘۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں وہ نہیں کیا جو توقع تھی، بابری مسجد سے متعلق فیصلے سے جذبات مجروح ہوئے، سیکڑوں برس پرانی مسجد کی جگہ اب رام مندر کی تعمیر کی جارہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں جو کچھ ہوتا رہا ہے 5 اگست کے جو واقعات تھے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو غیر قانونی طور پر ساتھ ملانے کی کوشش کی اور پھر ساری آواز کو دبانے کی کوشش کی، بابری مسجد کا سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور اب اس شہریت ترمیمی ایکٹ کی شکل میں بھارت کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے اور وہ باہر آئے ہیں 25 سے زیادہ اموات، سیکڑوں کی گرفتاریاں، ہزاروں لوگوں پر مقدمات قائم ہوئے اور ان کا بین الاقوامی تصور متاثر ہوا ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے اقدام کا جو ردعمل سامنے آیا ہے اس کی بھارت کو توقع نہیں تھی، مقبوضہ کشمیر کا کوئی بھی رہنما بھارت کی حمایت نہیں کررہا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق بھارت نے لائن آف کنٹرول پر 5 جگہوں پر باڑ کو کاٹا ہے اور براہموس، اسپائک میزائل نصب کیے ہیں اس کا مقصد کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے بھارت کے جارحانہ اقدامات سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے سلامتی کونسل کو پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے خط کو بنیاد بناتے ہوئے اقوام متحدہ میں فوجی مبصرین سے لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی ہم منصب کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان نے سعودی عرب سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے فورم پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آواز اٹھانے کا کہا اور سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کو او آئی سی میں اس مسئلے پر آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔