fbpx
ثقافت ٹی وی طرز زندگی

انڈیا: شام کو ٹی-وی پر کونڈم اشتہارات دکھانے پر پابندی

انڈیا میں ان لوگوں کے لیے بری خبر ہے جو کنڈوم کے بارے میں معلومات کے لیے ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اب انھیں رات کو دیر تک جاگنا ہوگا۔

حکومت نے کہا ہے کہ صبح چھ بجے سے رات دس بجے کے درمیان ٹی وی چینلوں پر کنڈوم کے اشتہارات نہ دکھائے جائیں کیونکہ ان میں فحاشی ہوتی ہے، اور دن میں بچے بھی ٹی وی دیکھتے ہیں جن پر برا اثر پڑتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج کل بچے رات کو بھی ٹی وی دیکھتے ہیں، بلکہ شاید رات کو ہی زیادہ جاگتے ہیں، اس لیے بہتر یہ ہوتا کہ یہ اشتہار اس وقت دکھائے جائیں جب بچے سکول کالج میں ہوتے ہیں!

کنڈوم
جنسی بیماریوں سے بچنے اور آبادی پر کنٹرول کے لیے اب تک کنڈوم کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے

حکومت کے پاس ایک اور راستہ یہ تھا کہ ان کے اشتہارات دکھائے ہی نہ جائیں۔ شراب اور سگریٹ کے اشتہارات کی طرح۔ انڈیا میں ٹی وی پر شراب اور سگریٹ کے اشتہار دکھانے پر پابندی ہے، اس لیے کمپنیاں بالواسطہ طور پر اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتی ہیں۔

یہ کمپنیاں اپنا برانڈ لوگوں کے ذہن میں تازہ رکھنے کے لیے کبھی ‘منرل واٹر’ تو کبھی ‘گلاس’ کے اشتہارات کا سہارا لیتی ہیں، مگر پیغام اتنا واضح ہوتا ہے کہ کوئی شبہہ باقی نہ رہ جائے کہ بات دراصل کس بارے میں ہو رہی ہے، بس صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں!

حکومت کا کہنا ہے کہ کنڈوم کے اشتہارات سے فحاشی کو فروغ ملتا ہے

کنڈوم بنانے والی کمپنیاں بھی شبے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں، اچھے اشتہار کی پہچان بھی یہ ہی ہوتی ہے کہ پیغام میں کوئی ابہام نہ ہو، لیکن حکومت کے اس فیصلے پر بحث چھڑ گئی ہے۔

انڈسٹری کی طرف سے اب تک جو رد عمل سامنے آیا ہے اس کا محور یہ ہے کہ تمام اشتہارات میں عریانیت نہیں ہوتی، اگر کوئی اشتہار واقعی فحش یا نامناسب ہے تو اس پر پابندی لگائی جانی چاہیے، تمام اشتہارات پر نہیں۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں پہلے ہی اسقاط حمل کے مسئلے نے سنگین شکل اختیار کر رکھی ہے۔ منگل کو ہی اخبارات میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ انڈیا میں ہر سال ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ‘ابارشن’ کرائے جاتے ہیں، اور ان میں سے 80 فیصد گھر پر ہی ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی سینیئر وکیل اندرا جے سنگھ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ‘کنڈوم پر پابندی کے بجائے۔۔۔حکومت کو محفوظ سیکس اور کنڈوم کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے۔’

ٹوئٹر پر زیادہ تر پیغامات اسی نوعیت کے ہیں۔۔۔ ‘اس ملک میں آبادی کا مسئلہ ہے۔۔۔یہاں چوبیسوں گھنٹے کنڈوم کے اشتہار دکھائے جانے چاہئیں۔’

سوال یہ ہے کہ کس عمر کے بچے کنڈوم کے اشتہار دیکھ سکتے ہیں؟ اور کیا حکومت نے یہ مشورہ صرف بچوں کو ‘عریانیت’ سے محفوظ رکھنے کے لیے دیا ہے، یا یہ اس کے اخلاقی ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔

کنڈوم بنانےوالی کمپنیاں اپنے اشتہارات میں شبے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں

ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ‘اگر کوئی لڑکی جینز پہن کر شادی کرنے پہنچ جائے تو اس سے کتنے لڑکے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟’

ان کے اس سوال پر بہت سے لوگ اعتراض کر رہے ہیں لیکن اس کا جواب کافی سادہ ہے۔ جو لڑکی جینز پہن کر شادی کرنے جائے گی اس سے صرف وہ لڑکا شادی کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے جس سے اس کی شادی طے ہوئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ساڑھی یا لہنگا پہننے والی لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی شادیوں میں یہ فہرست کب تیار کی جاتی ہے کہ اس سے شادی کرنے کے لیے کتنے لڑکے تیار ہیں؟

وزیر کا کہنا ہے کہ یہ بات کسی کو پسند نہیں آئے گی، جینز پہننے والی لڑکی کا جواب شاید یہ ہوگا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جہاں تک ٹی وی پر کنڈوم کے اشتہار کا سوال ہے، اس ڈیجیٹل دور میں جب ہر بچے کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے، حکومتیں کہاں تک یہ طے کرسکتی ہیں کہ کون کیا اور کب دیکھ سکتا ہے؟

ہو سکتا ہے کہ یہ مشورہ واپس لے لیا جائے، یا اسے مشورے کی حد تک ہی چھوڑ دیا جائے، پھر بھی بات نہ بنے تو دس اتنی دیر سے بھی نہیں بجتے!


اس خبر کے بارئے میں کمنٹ کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کریں




From Google