fbpx
پاکستان ثقافت طرز زندگی

بلیک فرائیڈے کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟

امریکی ریاست فلاڈیلفیا سے’’بلیک فرائیڈے ‘‘ کا آغاز  ہوا جو پورے امریکا سے ہوتے ہوئے  دُنیابھر میں گھومتا پھرتا ہوا پاکستان تک آپہنچا ہے۔ہرسال نومبر کی چوتھی جمعرات کو امریکا میں ’’یومِ شکرانہ‘‘ منایاجاتا ہےاور  اگلے دن فلاڈیلفیا کے لوگ کرسمس کی خریداری کے لیے اتنی تعداد میں سڑکوں پر آجاتے تھے کہ ٹریفک جام ہوجاتا تھا۔ مقامی پولیس نے اس نفسانفسی کو ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کا نام دیا۔ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ ’’یومِ شکرانہ‘‘ منانے کے بعد سیاہ فام غلاموں کی خریدو فرخت کرتے تھے جس کی وجہ سے اس دن کا نام ’’بلیک فرائیڈے‘‘ پڑ گیا۔

’’بلیک فرائیڈے‘‘ کرسمس کی خریداری کا پہلا دن بھی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن پہلے پہل جب اس کانام ’’بلیک فرائیڈے‘‘ پڑا تو اس کے پیچھے خریداری کا تصور کار فرما نہیں تھا۔

24ستمبر1869ء کو امریکا کی گولڈمارکیٹ کریش کر گئی تھی جس کی وجہ سے اس دن کو ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کہا جانے لگا۔ بعد میں جب اس دن کو خریداری کے دن کے طور پرمنایا جانے لگا تو یہ تصور عام ہو گیا کہ اس دن ’’سانتاکلاز‘‘ بڑی بڑی دُکانوں میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور کون سا ایسا بچہ ہے جو اسے دیکھنا نہیں چاہتا۔

https://i1.wp.com/workersadvisor.gelmanmedia.com/wp-content/uploads/sites/10/2014/11/BLACK-FRIDAY-OFFERS.jpg?fit=1000%2C660&ssl=1

کہا جاتا ہے کہ پرچون فروشوں کو عموماً جنوری سے نومبر تک مالیاتی خسارے کا سامنا رہتا تھا جسے سرخ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافع کے دنوں کو سیاہ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جب شکرانے کے دن سے اگلے دن یعنی جمعہ کے دن کو کرسمس کی خریداری کے طور پر منایا جانے لگا تو اس روز پرچون فروشوں کو بے تحاشا منافع ہونے لگا جس پر انہوں نے اسے’’ بلیک فرائیڈے‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ بلیک فرائیڈے کے بعد اسمال بزنس سیچرڈے، سنڈےاور سائبر منڈے بھی شاپنگ فیسٹول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ 31جنوری1919ء کو گلاسکو کے جارج اسکوائر میں بدترین فسادات پھوٹ پڑے تھے جس کی وجہ اس دن کا نام ’’بلیک فرائیڈے‘‘ پڑ گیا۔ حقیقت کچھ بھی ہو اب یہ دن امریکی ثقافت کا حصہ ہے اور پوری دُنیامیں اسے ارزاں نرخوں پر خریداری کے طور پر منایا جاتا ہے۔ خاص کر جب سے آن لائن شاپنگ کا تصور عام ہوا ہے، مارکیٹنگ کمپنیاں اپنا کاروبار چمکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔

https://i1.wp.com/www.viewstorm.com/wp-content/uploads/2015/01/Centaurus-Mall.jpg?resize=1162%2C775

پاکستان میں آپ اسے بلیک فرائیڈے کی جگہ وائٹ فرائیڈے کہہ لیں۔ اس پر بھی تسلی نہ تو اسپیشل فرائیڈے کا نام دے دیں۔ پھر بھی تشفی نہ تو ’’بلیسڈفرائیڈے‘‘ کا ٹیگ لگالیں۔ ڈپارٹمنٹل اسٹورز نےہر حال میں سیل لگانی ہے اور شاپنگ کے متوالوں نے دونوں ہاتھوں سے اس لوٹ سیل کے ثمرات بھی سمیٹنے ہیں۔ آپ اس دن کو عید کی شاپنگ کے طور پر بھی منا سکتے ہیں۔ رہی بات مسرت کی تومسرت اپنی اپنی ہے۔


بلیک فرائیڈے یا مبارک فرائیڈے؟

دنیا بھر میں منائے جانے والے دنوں پر پاکستان میں تنازع کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی ویلنٹائن ڈے اور کبھی ہیلووین پر تنازع اور اس پر پابندیاں یا مذہبی بحث ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

ایک جانب جہاں ان دنوں کے معاشی اور مالی عوامل ہیں جن کی وجہ سے انہیں نظرانداز کرنا کسی مذہبی یا غیر مذہبی شخص کے لیے آسان نہیں تو بقول علی رانا ان سب تہواروں یا دنوں کو ‘اسلامائز کیا جا رہا ہے جیسے اب بلیک فرائیڈے کا نام بدل کر بلیسڈ فرائیڈے رکھ دیا گیا ہے۔’

ولیہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘میں پاکستان میں بلیک فرائیڈے کی سیلوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر سمجھ نہیں پا رہی۔ کیا سیل لگانے والوں میں کوئی نہیں جانتا کہ بلیک فرائیڈے تھینکس گِوِنگ کے بعد کا دن ہے اور ایک چُھٹی ہوتی ہے جس کی امریکہ میں تاریخی اہمیت ہے مگر پاکستان کے ساتھ اس کا کوئی بھی واسطہ نہیں ہے‘۔

ہادی لیلانی نے ٹویٹ کی کہ ‘میں پاکستان میں اس بلیک فرائیڈے کی اصطلاح کے فروغ کی مذمت کرتی ہوں۔ جمعے کا دن سب سے بہتر دن ہوتا ہے جو سیاہ نہیں ہو سکتا‘۔

بلیک فرائیڈے کے ارتقا پر عدیل اظہر نے ٹویٹ کی کہ ‘دراز (ایک آن لائن شاپنگ ویب سائٹ) کا بلیک فرائیڈے بِگ فرائیڈے ہو گیا ہے۔ بلیک فرائیڈے وائٹ فرائیڈے ہو گیا ہے۔ مبارک ہو پاکستان نے جمعے کی عزت بحال کر دی۔’

جواد یوسفزئی کا خیال تھا کہ ‘عید اور رمضان پر قیمتوں میں کمی کرنا زبردست ہو گا نہ کہ مغرب کی غلامی میں شروع کیے گئے اس بلیک فرائیڈے کے رجحان میں۔’

https://i1.wp.com/blog.unmetric.com/wp-content/uploads/2016/11/best-black-friday-social-media-content.jpg?w=1320&ssl=1

محمد جمیل نے اس ساری بحث میں ایک اہم نکتے کی بات کرتے ہوئے لکھا ‘پاکستان میں بلیک فرائیڈے کی نقل بِگ فرائیڈے یا مبارک فرائیڈے اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ہر وہ چیز جو اخلاقیات یعنی مورل بریگیڈ کی جانب سے حرام قرار دی جائے اسے با آسانی ذاتی مفاد اور فائدے کے لیے حلال قرار دیا جا سکتا ہے۔’

علی الہٰی نے اس بات پر مزید وضاحت کی کہ ‘پاکستان میں زندگی کے تمام شعبوں کی طرح مذہب کو ایک بار پھر مالی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مبارک فرائیڈے یا بلیک فرائیڈے؟’


 اس خبر کے بارئے میں کمنٹ کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کریں
Tags




From Google