fbpx
پاکستان سیاست

نواز شریف کے حوالے سے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی نظیر عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی۔

 ٹویٹر پر جاری ایک ویڈیو میں فواد چوہدری نے کہا کہ ‘نواز شریف کے حوالے سے عدالتی فیصلہ آچکا ہے کہا جارہا ہے کہ وہ ملک سے باہر جاسکتے ہیں’۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جہاں تک میں نے 16 یا 17 سال قانون کی پریکٹس کی ہے اس میں ایسی نظیر نہیں ملتی جہاں ایک سزا یافتہ مجرم کو اس طرح باہر بھیج دیا جائے’۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘ان کے واپس آنے کی بات ہے تو ہمارے ملک میں انہی کی خاندان کی مثالیں ہیں، اسحٰق ڈار کا ریڈ وارنٹ جاری ہوچکا ہے اور وہ ابھی تک سینیٹر ہیں اور حلف نہیں اٹھایا ان کی جائیدادیں یہاں نہیں ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف صاحب کی جائیدادیں یہاں نہیں ہیں ان کے بچوں کی جائیدادیں یہاں نہیں ہیں اس لیے آپ ان کو واپس لانے کے لیے مجبور کیسے کریں گے’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘عدالت کا جو بھی فیصلہ ہے اس پر تبصرہ کرنا تو مناسب نہیں ہے جو بھی وہ کہے ایک قانون اس پر عمل درآمد کرنا ہےلیکن اس سے نئی نظیر آئی ہے’۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘اس نظیر سے کتنے اور قیدی فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا فائدہ نہیں اٹھاسکتے یہ دیکھنا ہوگا’۔

نواز شریف کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘حکومت اور کابینہ میں میری رائے یہ ہوگی کہ ہمیں اس فیصلے کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے، ممکن نہیں ہے کہ اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو ہمارے نظام انصاف کو نقصان پہنچے گا’۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ‘اس فیصلے کو یقینی طور پر سپریم کورٹ میں لے کر جانا چاہیے اور سپریم کورٹ سے حتمی رائے لینی چاہیے کہ ان معاملات پر سپریم کورٹ کیا کہتی ہے

 

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت کی جانب سے عدالتی ضمانت کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف کو 7 ارب روپے کا بونڈ جمع کر کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی شرط کو مسترد کردیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرکے انہیں 4 ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جانے دیا جائے اور صحت یابی کے بعد واپس آئیں گے جس کے لیے انہوں نے بیان حلفی جمع کرادیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت اپنا اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔

About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google