fbpx
پاکستان سیاست

نواز شریف کی لندن آمد پر ہسپتال داخلے کے انتظامات مکمل، نام بدستور ایس سی ایل میں




From Google

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کو لندن پہنچتے ہی سیدھے مرکزی لندن کے ایک نجی ہپستال میں داخل کرانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جہاں ان کی طبی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر بدستور موجود ہے اور حکومت اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

لندن میں موجود پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو اُسی ہپستال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔

پاکستان میں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے بتایا کہ نواز شریف کی لندن روانگی کا معاملہ ان کی طبیعت کی وجہ سے ہنگامی نوعیت کا ہے اس لیے ان کی روانگی کا فیصلہ بھی ہنگامی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔

ادھر پاکستان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس بارے میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اس سلسلے میں خصوصی ہدایت ہے کہ نواز شریف کی بیماری کے معاملے پر کوئی سیاست نہ کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نواز شریف کا نام خارج کرنے کا ’عمل مکمل‘ ہو گا، تو ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس عمل میں مزید کتنا وقت درکار ہو گا تو انھوں نے اس کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا ’پروسیجر‘ ان کی حکومت نے نہیں بلکہ ماضی کی حکومت نے بنایا تھا۔

نواز شریف کو اُسی ہپستال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں

مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے کہا کہ اتوار کو بھی نواز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اس میں بھی سرکاری ڈاکٹروں سمیت تمام ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ انھیں جلد از جلد لندن چلے جانا چاہیے۔

نواز شریف کی لندن روانگی کے حوالے سے حکومت سے رابطے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پارٹی کی ہائی کمان کا حکومت سے مستقل رابطہ ہے لیکن سرکار ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالے جانے کا فیصلہ وزارتِ داخلہ کی سطح پر کیا جاتا ہے اور پارٹی وزارتِ داخلہ سے بھی رابطے میں ہے۔

بعدازاں مسلم لیگ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی بیرونI ملک روانگی کا عمل ای سی ایل سے نام نہ نکلنے کے باعث تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کی کل بیرون ملک روانگی کے لیے انھیں سٹیرائڈز کی ہائی ڈوز دی، ڈاکٹرز کے مطابق نوازشریف کو بار بار سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز نہیں دی جا سکتی۔’

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز پلیٹلیٹس بڑھانے کی کوشش میں ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے جس سے کوئی اور نقصان ہو جائے۔ ‘سابق وزیر اعظم کے پلیٹلیٹس میں کمی پر ڈاکٹرز کی تشویش بڑھ گئی ہے اور اس حوالے سے وہ تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس دوران کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے۔’

پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے ہمراہ بیرونِ ملک نہیں جا سکیں گی

ترجمان مسلم لیگ ن کے مطابق کسی طبی حادثے کی صورت میں مریض کو بیرون ملک منتقل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ معالجین کے مطابق نواز شریف کے علاج کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور گذرتے وقت کے ساتھ خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ‘ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے عمل کو کو تیزی سے انجام دینے کی ضرورت ہے۔’

مرکزی لندن میں پارک لین کے اپارٹمنٹس سے تقریباً دو کلو میٹر کی دوری پر ہارلے سٹریٹ میں واقع یہ وہی ہپستال ہے جہاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز بھی اپنے آخری ایام میں زیر علاج رہی تھیں۔

مسلم لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہارلے سٹریٹ میں دل کے امراض کے معالجین سے بھی وقت طے ہو گیا تھا لیکن نواز شریف کی لندن آمد میں تاخیر سے ڈاکٹروں سے نئی تاریخیں لی جا رہی ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک نواز شریف کی روانگی کی تاریخ طے نہیں ہو جاتی ان کے طبی معائنہ کے وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے نواز شریف کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انھیں لندن پہنچنے کے بعد گھر لے جایا جائے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک نواز شریف کی روانگی کی تاریخ طے نہیں ہو جاتی ان کے طبی معائنہ کے وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا

ادھر پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی ضمانت کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں ان کی متوقع لندن روانگی کی خبریں گرم ہیں اور اس سلسلے میں ان کے فضائی ٹکٹ کا عکس بھی مختلف چینلوں پر دکھایا جا رہا ہے۔

تین مرتبہ ملک کے منتخب وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیرون ملک طبی معائنے کے لیے روانگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہونا ہے اور ان کے حامی اور مخالفین اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جائے گا۔

قبل ازین نواز شریف کی لندن روانگی کے بارے میں قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ اتوار کی شب اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ لندن پرواز کر جائیں گے لیکن ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا۔

مریم اورنگزیب سے جب یہ پوچھا گیا کہ نواز شریف کی سیٹ کب بک کرائی گئی ہے تو انھوں نے کہا کہ جب تک ای سی ایل سے نام نہیں ہٹایا جاتا ان کی سیٹ بک نہیں کروائی جا سکتی۔

وزارت داخلہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے نیب کو خط لکھا تھا

نواز شریف کے ہمراہ کون لندن آ رہا ہے اس بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی مریم نواز کا پاسپورٹ حکومتی تحویل میں ہونے کی وجہ سے وہ تو نہیں جا سکتیں لیکن نوازشریف کی خراب حالت کی وجہ سے فیملی کے کسی نہ کسی شخص کو ان کے ساتھ جانا ہو گا۔

قبل ازیں انھوں نے ایک بیان میں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اس بیان میں انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے نواز شریف کی اتوار کو بیرون ملک سفر کو محفوظ بنانے کے لیے انھیں سٹیرائڈز کی زیادہ خوراک دی تھی لیکن ڈاکٹروں کے مطابق نوازشریف کو باربار سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق پلیٹ لیٹس بڑھانے کی کوشش میں ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتے جس سے کوئی اور نقصان ہو جائے۔

معالجین کے مطابق نواز شریف کے علاج کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گذرتے وقت کے ساتھ خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں