fbpx
سائنس و ٹیکنالوجی موبائیل

واٹس ایپ کی شرارتیں

بظاہر یہ بہت آسان اور سادہ سے سوال ہے، جس کا مثبت جواب دیتے ہوئے آپ تھوڑا سا توقف کریں اور ساتھ ساتھ صبر کا مظاہرہ بھی۔

بلکہ بقول مقبول لیڈر کے آپ کو گھبرانا نہیں۔ تحمل سے، دھیان سے اور اطمینان سے یہ سوچنا ہے کہ کہیں یہ آنے والے طوفان کا اشارہ تو نہیں؟ اور اگر آپ واقعی گھبرانا نہیں چاہتے تو جواب ناں میں دے کر اس طوفان کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں، جو آپ کے سروں پر بس آنے ہی والا ہے۔

ایک ایسا طوفان جو آپ کا سب کچھ بہا کر لے جا سکتا تھا۔ آپ کا سکون، زندگی کی خوشی، اپنوں کا دکھ، آس پاس بیٹھے اپنوں کی خبر گیری اور ساتھ ساتھ تھوڑا سا غم بھی۔ اس میں کوئی شان نہیں کہ آپ صاحب واٹس ایپ ہیں۔

واٹس ایپ بھی نجانے کیا بلا ہے۔ نو، دس سال پہلے چپکے سے ہماری زندگیوں میں قدم رکھا اور پھر وہ بھونچال لایا کہ اب رات میں چین نہ دن میں سکون۔

آپ کو ہر دم اور ہر پل بے چین ہی کرتا رہتا ہے۔ جن کی گردنوں میں سریے ہوتے ہیں وہ بھی گردن جھکا کر بس پیغامات دیکھتے رہتے ہیں۔

صبح اٹھیں تو پہلے یہ دیکھنا کہ رات میں کہیں کسی نے آپ کو نیند کی وادیوں میں کھوتا دیکھ کر کوئی پیغام تو نہیں چھوڑا۔

اور رات کو سوئیں تو اس کی ٹک ٹک بس ہر باراسی بات پر اکساتی ہے چلیں اس کا تو جواب دے ہی دیں۔

اب اس چلیں کے چکر میں گھڑیال کی سوئیوں میں مقابلہ بازی جاری رہتی ہے اور عین ممکن ہے کہ اگر آپ اہل اہلیہ ہیں تو اُن کی خوں خوار نگاہیں آپ کو اُس وقت متوقعے ایٹمی جنگ کا فلیش پوائنٹ لگیں۔

واٹس ایپ ایک ایسا طوفان ہے جو آپ کا سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ آپ کا سکون، آپ کی خوشی، اپنوں کا دکھ، آس پاس بیٹھے لوگوں کی خبر گیری اور ساتھ ساتھ تھوڑا سا غم بھی

تب آپ عافیت اسی میں جانتے ہیں کہ خاموشی سے اچھے بچوں کی طرح موبائل فون ایک طرف رکھ کر، کل دیکھیں گے کا دل میں نعرہ لگا کر جیسے ہیں جہاں کی بنیاد پر بستر پر ایسے دراز ہوتے ہیں کہ جیسے جانتے ہی نہیں۔

ابتدا میں تو ہمیں بھی یہ واٹس ایپ بڑا بھلا بھلا لگا۔ یاہو، ایم ایس این اور فیس بک مسینجر جیسے پیغام رسانی کے جدید ذرائع کے مقابلے میں برق رفتار اور پھرتیلا ایسا جیسے کسی زمانے میں وکٹوں کے پیچھے ہمارے سرفراز ہوتے تھے۔

مگر پھر اس نے بھی دھوکا دینا شروع کر دیا۔ یہ معصوم سا دکھنے والا دھیرے دھیرے اپنے پرپُرزے نکالنے لگا اور پھر پتہ چلا کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے کچھ اور ہیں۔ بقول جون ایلیا کے، جس طرح پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی، ویسے ہی واٹس ایپ کی شرارت دو امریکی لونڈوں برائن ایکٹون اور جان کوم کی تھی جنہوں نے یاہو چھوڑ کر فیس بک والوں کو نوکری کی عرضی لگائی گئی۔

انکار پر دونوں نے دنیا کا چین برباد کرنے یا انتقاماً واٹس ایپ متعارف کرایا، جس نے چند ہی مہینوں بعد ہی اس کے مالی عروج کی داستان شروع ہوئی۔ جدت کے نئے در کھلتے چلے گئے۔ سیل فون ہی نہیں اب تو آپ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر بھی اس کی آزمائش لے سکتے ہیں۔

روز نت نئے فیچرزاور زیادہ ہلکان اور پریشان کرنے کو آنے لگے۔ ویسے منی کی طرح یہ بھی کئی بار بدنام ہو چکا ہے۔

پاکستان میں جہاں پچھلی حکومت اپنی کرسی ہلنے کا ذمے دار اسے بھی قرار دیتی رہی ہے۔ وہیں حال ہی میں بھارتی انتخابات میں بھی واٹس ایپ کے ذریعے صارفین جن میں صحافی، انسانی حقوق کے رہنما وغیرہ شامل ہیں، ان کی جاسوسی کا الزام بھی اسے سہنا پڑا۔

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جس طرح ساسیں، بہو میں لاکھ کیڑے ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال ہی لیتی ہیں، لیکن نہ چھڑاسکو گے دامن کہتے ہوئے ان کے ساتھ کمبل کی طرح چپکی رہتی ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ واٹس ایپ کا بھی ہے۔

کسی کا پیغام آئے اور آپ نے اسے دیکھ لیا اور جواب دینے کا من نہ بھی ہو پھر بھی یہ نیلا ٹک مارک فوراً روانہ کرنے والے کو بتا دیتا ہے کہ اے مرد مجاہد کر آیا تیرا کام اور بادل نخواستہ جی آیا نوں کے مصداق جواب دینا ہی پڑ جاتا ہے۔ ورنہ اگلا سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسیج تو تم نے پڑھ لیا تھا رپلائی نہیں کیا؟

عام طور پر بخار وائرل ہوتے ہیں لیکن اب واٹس ایپ ویڈیوز نے اس کے اس مقام کو تھوڑا بہت نہیں اچھا خاصا ہلا کر رکھ دیا ہے۔

پلک جھپکتے میں یہاں سے وہاں۔ رہی سہی کسر ان گروپس نے پوری کر دی۔ آپ چاہیں نہ چاہیں، بلاوجہ اور بلا ضرورت آپ کے نام کا کھاتہ کھول دیا جاتا ہے۔

ڈیڑہ درجن سے زیادہ گروپ کے تو ہم بھی رکن رہے۔ ہم ٹھہرے ویسے ہی گروپ بندی کے مخالف، بار باران سے علامتی واک آؤٹ کیا لیکن مان نہ مان میں تیرا میزبان کی ضد پکڑے ایڈمن کہاں ہتھیار ڈالنے والے ہوتے ہیں۔

کوئی دل جلے کے نام سے ہمارے دل پر چھریاں چلاتا، تو کوئی یاروں کا یار کہہ کرسارے دشمنوں والے کام کرجاتا ہے۔

اور پھر ہر سیزن کے اعتبار سے گروپ کا نام بھی بدلا جاتا ہے۔ بیگمات بھی اپنی چار انچ کی مسجد بنا کر میکہ، سسرال، فیملی جیسے گروپ میں وہی کام انجام دے رہی ہوتی ہیں جوکسی زمانے میں پڑوس کے گھر جا کر دیا جاتا تھا۔

عام طور پر بخار وائرل ہوتے ہیں لیکن اب واٹس ایپ ویڈیوز نے بخارکے اس مقام کو تھوڑا بہت نہیں اچھا خاصا ہلا کر رکھ دیا ہے

رہ گئے شوہر توان کے زیادہ تر دفتری جھمیلوں سے بھرے گروپ ہوتے ہیں۔ اب تو سکول کے بچوں تک نے اپنا گروپ بنا لیا، جہاں تدریس پر اظہار خیال کرنے کی بجائے ٹیچرز کی برائی زیادہ ہو رہی ہوتی ہے۔

گروپ میں کوئی بھی مواد بھیجنے کے بعد کچھ کام کے دھنی ایسے بھی ہیں، جو الگ سے یہی سب کچھ ذاتی نمبر پر بھی دے جاتے ہیں۔

یعنی انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم گروپ کے قائل نہیں۔ اس پر ریمارکس نہ دو تو اگلا سوال ہوتا ہے پسند نہیں آئی؟

صبح کے سلام سے شبِ خیر اور ہر جمعے کی مبارک باد دینا بھی ہر مسلم کا ایمان ٹھہرا۔ پوری پوری کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں پہنچ کر مصنف بے چارے کو اور مالی نقصان بھی اسی واٹس ایپ کی وجہ سے دے جاتی ہے۔

وہ ویڈیوز جو بار بار آپ دیکھ چکے ہوتے ہیں، آپ کو ذہن نشین کرانے کے کہیں نہ کہیں سے پھر مل جاتی ہیں۔

اور بعض دفعہ تو اپنا ہی بھیجا ہوا مواد، خود کو کسی اور ذرائع سے ملتا ہے۔ واٹس ایپ کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ اپنے کہے ہوئے سے مکر ( ڈیلیٹ فار ایوری ون ) بھی سکتے ہیں، یعنی کمان سے نکلا ہوا تیر واپس آسکتا ہے۔

لیکن کچھ کو یہ بے چینی ہو جاتی ہے کہ آخر لکھا یا بھیجا کیا تھا جو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ پہلے ثبوت کے لیے گواہ ہوتے تھے اور آج کل سکرین شاٹ، اور ہاں ہمیں بھی کئی بارکچھ چیزیں شیئر کرنے سے شیطان روک چکا ہے۔

خاص ویڈیوز کے لیے خاص احباب کی طرف سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ یار وہ والی ویڈیو تو سینڈ کرنا، یہاں کم بخت شیطان ہم کو نہیں روک پاتا۔

(بشکریہ:سُفیان خان، اِنڈیپینڈنٹ اُردو)


پاک ایشیاء ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے  مالی تعاون کیجیے نیز اس خبر کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کمنٹس میں کریں اور شیئر کر کے ہماری حوصلہ افزائی کریں




From Google