fbpx
پاکستان سیاست

27 اکتوبر کو دھرنا نہیں کشمیر سے یکجہتی کا دن منائیں گے : اپوزیشن

اسلام آباد میں متعدد اپوزیشن جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے 27 اکتوبر کو کوئی دھرنا نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا مجید ہزاروی نے کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’27 اکتوبر کو ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ منایا جائے گا اور اپوزیشن نیشنل پریس کلب کے سامنے بڑا مظاہرہ کرے گی’۔

31 اکتوبر کے منصوبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس روز آزادی مارچ کے شرکا کا استقبال کیا جائے گا اور بھرپور قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

انہوں نے اپنی جماعت کے مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ‘ہم وزیراعظم عمران خان کا استعفی، نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں’۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر طارق فضل چوہدری نے بھی واضح کیا کہ 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور کوئی دھرنا نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اسلام آباد ہمارا شہر ہے، یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات کا اندازہ ہم انتظامیہ سے زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں’۔

انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ کو خبر دار کیا کہ ‘پکڑ دھکڑ کرکے ماحول کو خراب نہ کیا جائے’۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سبط حسن بخاری نے بھی 27 اکتوبر کو اس ہی طرح کی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا اور کہا کہا ‘ہمارا مظاہرہ پرامن ہوگا’۔

آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا نے ‘نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا’۔

سبط حسن بخاری کا کہنا تھا کہ ‘ہم سلیکٹڈ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں آصف زرداری اور میاں نواز شریف سے کسی کو ملاقات کی اجازت دی جائے’۔

31 اکتوبر کے دھرنے میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا فیصلہ اپوزیشن رہنماؤں کی رہبر کمیٹی کرے گی جس کی حکومت مخالف مارچ پر مشاورت جاری ہے’۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے کہا تھا کہ ‘حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی جبکہ غیر سنجیدگی کا ثبوت وزیر اعظم کی اپوزیشن کے بارے میں زبان ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتون نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے 31 اکتوبر کو حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کے استعفے سے قبل حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google