fbpx
پاکستان سیاست

’ رانا ثنااللہ کیس کے گواہان کی جان کو خطرہ ہے، آئی جی پنجاب تحفظ فراہم کریں‘

 شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات کیس کے گواہان کی جان کو خطرہ ہے آئی جی  پنجاب فوری تحفظ فراہم کریں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ یہ منشیات کا کیس ہے جبکہ رانا ثنااللہ کے اثاثے پلازے، رئیل اسٹیٹ اور بھاری رقوم کے بینک اکاؤنٹس ہیں اور انہوں نے ان پیسوں کا ذریعہ اپنی وکالت بتایا ہے ۔

وزیر مملکت نے کہاکہ رانا ثنا اللہ واحد شخص ہیں جن کی سرمایہ کاری، خریداری میں لگی لیکن اس انویسٹمنٹ کے کوئی ذرائع نہیں، آمدن میں اضافہ تب ہوتا ہے جب پیسہ رول کریں مگر یہ منفرد کیس ہے کیونکہ انہوں نے کوئی چیز بیچی نہیں یہ اربوں روپے کہاں سے آئے ہیں۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ جب بھی سیاسی ڈرگ ڈیلرز پر ہاتھ ڈالا گیاتو ان کا ٹرائل نہیں ہوا لیکن اینٹی نارکوٹکس فورس  جیسے ادارے کا میڈیا ٹرائل کیا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر مملکت نے رانا ثنا اللہ کا مبینہ آڈیو پیغام بھی چلایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے درخواست دی کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کا آغاز کیا جائے لیکن اسے رد کردیا گیا، فیصلہ کرنا جج صاحب کا حق ہے، وزیراعظم، وزیر برائے نارکوٹکس کنٹرول، ڈی جی اے این ایف کسی کو سزا نہیں دے سکتے نہ ہی قانون میں مداخلت کرسکتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ یہ عجب بات ہے کہ پراسیکیوٹر کا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے لیکن ملزم کا ٹرائل نہیں ہورہا اصل وجہ کیا ہے میں سمجھنے میں ناکام ہوگیا ہوں۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ہمارے گواہان کی زندگی کو خطرہ ہے اور یہ خطرہ زبانی نہیں، رانا ثنااللہ نے عدالت میں آتے ہوئے میرے حوالے سے، ڈی جی اے این ایف اور متعلقہ میجر سے متعلق غلط الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اے این ایف کی راولپنڈی کی ٹیم پرقاتلانہ حملہ ہوا، لاہور میں گواہان کو بھی خطرہ اور ملزمان کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ہمارے لیے خطرات کی نشاندہی کی جارہی ہے۔

وزیر مملکت نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ اے این ایف کے گواہان کے تحفظ کے لیے کیس کو راولپنڈی منتقل کیا جائے اور ٹرائل جیل میں کیا جائے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب عدالت کو حکم دیں کہ پروسیکیوشن کو ثبوت پیش کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ قانون دفاع کو جرح کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ آئی جی پنجاب گواہان کو فوری طور پر تحفظ فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایفی ڈرین کیس میں حینف عباسی کو ضمانت دیے جانے کے فیصلے کو اے این ایف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے، اس کیس میں 5 سو کلوگرام ایفی ڈرین فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں پہنچانے کے بجائے غائب کردی گئی۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ فیصلہ دیا گیا کہ اے این ایف ثابت کرے گی کہ ایفی ڈرین کہاں غائب ہوئی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ وہ لوگ جو منشیات کے عادی ہیں ان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے وہ بڑے بڑے مگرمچھ جو اسکولوں، پوش علاقوں، شہروں کے بڑے ریسٹورنٹس اور گلی محلوں میں منشیات پہنچاتے ہیں، کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر عدالت سے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرنے کی درخواست کی۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google