fbpx
پاکستان

پشاور میں افغان قونصلیٹ کو بند کرنا قابل افسوس عمل ہے: ترجمان دفتر خارجہ

 پشاور کی مارکیٹ کے حوالے سے افغان وزارت خارجہ کے بیان پر پاکستان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پشاورمیں افغان قونصلیٹ کو بند کرنا قابل افسوس عمل ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پشاور کی ایک مارکیٹ کے مسئلے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا افسوسناک ہے، مارکیٹ کا تنازعہ عام شہری اور افغانستان کے بینک کے درمیان تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت نے 1998 میں عام شہری کے حق میں فیصلہ دیا، ہمسایہ ملک کی طرف سے عدالتی احکام نہ ماننے کے بعد مقامی انتظامیہ نے ایکشن لیا، پاکستان کے عدالتی نظام پرافغانستان کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق پشاورمیں افغان قونصلیٹ کا بند کرنا قابل افسوس عمل ہے، امید ہے افغانستان قونصلیٹ کی بندش کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے گا، ایک نجی کیس کو دو برادر ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ پشاور میں افغان مارکیٹ کا تنازع سفارتی تنازع کا رخ اختیار کر جانے کے بعد افغانستان نے پشاور میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا تھا، اس بندش کی اطلاع افغانستان کے سفیر شکر اللہ عاطف مشعال نے اپنے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں دی تھی۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google