fbpx
دنیا سائنس و ٹیکنالوجی

گوگل نے قسم توڑ دی ، اینڈرائڈ کیو کا نام اینڈرائڈ 10 فائنل

گوگل نے اپنا نیا موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کیو کے نام کا اعلان کردیا ہے اور 10 برس پرانی روایت کو توڑ دیا ہے۔

اینڈرائیڈ کے آغاز سے ہی اس آپریٹنگ سسٹم کے مختلف ورژن کے نام میٹھی اشیا پر رکھے جارہے تھے جیسے اینڈرائیڈ لالی پاپ، اینڈرائیڈ اوریو یا اینڈرائیڈ پائی وغیرہ۔

مگر اب گوگل نے نئے آپریٹنگ سسٹم کو اینڈرائیڈ 10 کا نام دیا ہے۔

گوگل کی جانب سے ایک بلاگ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں برسوں سے یہ فیڈبیک مل رہا تھا کہ آپریٹنگ سسٹم کے نام ہماری عالمی برادری میں ہر ایک کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔

نئے نام کے ساتھ اینڈرائیڈ کا اپ ڈیٹ لوگو بھی کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا گیا ہے جو کہ کمپنی نے زیادہ ماڈرن قرار دیا ہے۔

ویسے بھی کیو سے میٹھی اشیا کے نام آسان نہیں جو بیشتر افراد کے لیے جانی پہچانی بھی ہوں۔

گوگل کے مطابق کیو حرف سے میٹھی اشیا بہت زیادہ عام نہیں بلکہ بیشتر افراد کو تو ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم ہی نہ ہو۔

گوگل کے اینڈرائیڈ کے پراڈکٹ منیجمنٹ کے نائب صدر سمیر سمت کے مطابق پائی ہمیشہ میٹھی نہیں ہوتی، لالی پاپ کا تلفظ کچھ خطوں کے لیے بہت مشکل ہے جبکہ مارش میلو ایسی چیز نہیں جو ہر جگہ مل جائے، کم از کم نمبر یا ہندسے تو دنیا بھر میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔

رواں سال مئی میں سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ اینڈرائیڈ کیو میں فولڈ ایبل ڈسپلے والے اسمارٹ فونز کی سپورٹ پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے جبکہ فائیو جی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔

اس نئے آپریٹنگ سسٹم میں ایک اور بہترین فیچر اسمارٹ ریپلائی ہوگا جو کہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں تمام میسجنگ ایپس میں کام کرے گا، اسمارٹ ریپلائی صرف الفاظ کی پیشگوئی نہیں کرے گا بلکہ جملے یہاں تک کہ مکمل جواب بھی بتاسکے گا اور ہاں اینڈرائیڈ کیو میں ڈارک تھیم سپورٹ بھی دی جارہی ہے۔

یہ آپریٹنگ سسٹم رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں اسمارٹ فونز میں صارفین کو دستیاب ہونا شروع ہوگا


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google