fbpx
پاکستان فن کار

عالمی شہرت کے حامل استاد نصرت فتح علی خان کو دنیا سے منہ موڑے 22 برس بیت گئے

  عالمی شہرت یافتہ قوال اور گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

 استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور اپنی منفرد گائیکی کی بدولت پوری دنیا میں نام پیدا کیا، وہ قوالی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نصرت فتح علی خان نے “مینوں سوچاں دیا ں دے گیا سوغاتاں، سُن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک، دم مست قلندر مست مست، آ جا تینوں آکھیاں اُدیک دیاں، آفریں آفریں، میری توبہ توبہ، تم اک گورکھ دھندا ہو، کوئی جانے یا نہ جانے” سمیت سینکڑوں نغمات اور قوالیاں گا کر بے حد شہرت حاصل کی۔

دنیا آج بھی شہنشاہ قوال کی خوبصورت آواز کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے، ان کا گایا ملی نغمہ ‘‘میرا پیغام پاکستان’’ خوب مقبول ہوا اور استاد نصرت فتح علی خان نے ’’جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم‘‘ گیت گا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

مشرقی اور مغربی موسیقی کا شاندار امتزاج پیش کرنیوالے نصرت فتح علی خان نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ وہ 48سال کی عمر میں 16 اگست 1997 کو لندن میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی برسی کے موقع پر موسیقی کے وابستہ لوگوں نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔


About the author

عدیل رحمان (معاون مُدیر)

عدیل رحمان پاک ایشیاء میں بطور معاون مُدیر کے طور پر اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں- یہ پاک ایشیاء کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار اکثر اُن کی خبروں کی سُرخیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.




From Google